Sunday, June 18, 2017


وہ ہستی جسے میں نے شِدّت سے، ٹُوٹ کر، بِکھر بِکھر کر، سِمٹ سِمٹ کر چاہا، جن کی محبت میرے وجود کا نہ جدا ہونے والا حصہ ہے، جن سے وابستہ مری ہر کہانی، ہر قِصہ ہے
جن کا تصور میرے دل ودماغ میں پوشیدہ و نِہاں خیالات واحساسات پہ ہر لحظہ و لمحہ چھایا رہتا ہے، جن کا خیال مرے شب و روز کو جِلا بخشتا ہے، جن کے ہِجر میں ہر عاشِق کا دل دن رات تڑپتا ہے، جِن کی یاد سے ہر گُلشن و چمن کا اِک اِک غنچہ مہکتا ہے، جِن کے تذکرے پر چرند و پرند میں سے ہر کوئی چہکتا ہے، ہر شجر و حجَر لہکتا ہے، جِن کے عِشق کی آگ میں بندۂِ مومِن کا دل ایسے دہکتا ہے کہ جہنم کی آگ کو سرد کر دیتا ہے، عِشق کی بھی ایسی شان کہ ان سے دور لے جانے والی ہر شے کو گرد کر دیتا ہے

اپنا یہ کلام اُنہی کے نام جن کے ہم غلام ہیں جو خود نہ صرف خیر الانام ہیں بلکہ ساری کائنات، ساری اِنسانیت کے لیے وجۂِ عزت واحترام ہیں، باعثِ عنایات و اکرام ہیں
جِن کے مقام و مرتبے کا اِدراک انسانی حواس کے بس کی بات نہیں، یہ تو علِیم و خبِیر پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ اُس نے آپ کو کسقدر اعلی وارفع مقام پر فائز کیا
آپ کی مدحت و نعت کا حق ادا کرنا اس عاجز و ناتواں کے بس میں کہاں کہ کہاں میں خاک نشیں کہاں وہ جس کا تصور از خود فردوسِ بریں، بہر حال وہ راحۃ العاشقِین، مُرادُ المشتاقِین، رحمۃُ العالمِیں، از خود برہانِ مُبیں من ربُ العالِمیں
کرتے ہیں سر تسلیم خم، کر دو للہ کرم، ہمیں بھی عطا ہو ایسا قلم، جو مصروفِ ثناء و توصیف رہے ہر دم، اے شافعِ امم، دافعِ البلاءِ والالم، صاحب ذِی الجودِ و الکرم
کہاں میں حقیر و کم تر کہاں وہ بعد از خدا بزرگ و برتر
کلام و تحریر: اسد قیوم بابؔر

ترے بارے میں جو کلام کرتے
ہم بھی کوئی عُمدہ کام کرتے


تُجھ سے شروع تُجھ پہ اختتام کرتے
تری جستجو میں عمر تمام کرتے


روز ترے نام پہ جیتے و مرتے
اپنی وابستگی کا کچھ ایسے اہتمام کرتے


اپنا سب کچھ محبوبِ جاں کو سونپ کر
محبتوں کے سبھی جذبے اُسں کے نام کرتے


تری یاد سے مہکتا رہتا غنچۂ دل
اُسے تری چاہت و اُلفت کا مقام کرتے


یہاں وہاں، ہر سُو، ہر جا ترے جلوے
ترا تذکرہ و چرچا صُبح و شام کرتے


تذکرۂ حسن جب بھی کہِیں کوئی چھیڑتا
عُشاق متوجہ خود کو رخِ خیر الانام کرتے


اے قاسِم و مُنعم! ترے ٹکڑوں پہ پلنے والے
بھلا وہ کیوں اور کوئی حسرتِ خام کرتے


ٹھوکریں کھاتے بھلا در بدر کیسے
آپ جو نگاہِ کرم و لطفِ عام کرتے


کرتے جسم وجاں ترے قدموں کا طواف
عُشاق جو ترے شہر میں قیام کرتے


کرتے اپنا خمیر خاکِ کوچۂِ دلدار کے سپرد
اور پِھر تا حشر وہِیں سکون و آرام کرتے


مِل جاتا جو اِذنِ سفر و شرفِ باریابی
اسد غلام روضۂِ اقدس پہ پیش سلام کرتے

Monday, September 19, 2016

پہنچا ہوا


  
   بندہ خدا کی جانب عازم سفر ہوتا ہے اور اُس تک پہنچنے کا قصد کر کے اٹھ کھڑا ہوتا ہے، تو بہت سے فریب راہ میں اس کی گھات لگا کر بیٹھتے ہیں۔ ’رہزنی‘ کی متعدد وارداتیں اس کے ساتھ پیش آنا ہوتی ہیں، ہر بار اِس کو خدا ہی بچائے تو بچائے.


     پہلے خواہشات اور شہوات ہزار روپ بھر کر اسکے راستے میں آتی ہیں۔ سیادت، عہدے، مناصب اس سے ’محض خدا کا قصد‘ چھڑوانے میں سب اپنی اپنی صلاحیت آزماتے ہیں۔ آسائشیں، بہتر سے بہتر مواقع، اونچے اونچے گھرانوں سے رشتے، اسکے ذہن پر حاوی ہونے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔ سواریاں، محلات، پوشاکیں باقاعدہ ایک کھینچ رکھتی ہیں۔یہ سب چیزیں اسکے دامن سے لپٹتی ہیں تو اسکو آگے جانے کا چھوڑتی ہی نہیں۔ وہ یہیں رہ بسے تو اسکا سفر ختم، آگے بڑھتا چلا جانے پر ہی مصر ہے تو دامن کھینچ کر چھڑانا پڑتا ہے۔

      اسکی طلب صادق ہے اور وہ یہیں بیٹھ رہنا گوارا نہیں کرتا تو اگلی گھاٹی آتی ہے۔ یہاں آزمائش نے عقیدت کا روپ دھار لیا ہے۔ اب دست بوسی ہونے لگتی ہے۔ ارادتمندوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ مجلس میں وارد ہوں تو ہر آدمی حضرت کیلئے اپنی نشست چھوڑتا ہے۔ ’دعاؤں کی درخواستیں‘ ہونے لگتی ہیں۔ برکت کیلئے یہیں کا رخ ہوتا ہے، اور اپنے ہاں قدم رنجہ فرمانے کی درخواست بھی۔ یہ سب، اسکو گرا لینے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ کوئی قسمت والا ہی اسکی تاب لائے تو لائے۔ وہ یہاں رک جائے تو یہی اس کا نصیب ہوتا ہے اور یہی اس کا حظ۔ 
     یہاں سے آگے بڑھے تو کرامات کی آزمائش آتی ہے۔ وہ ان میں الجھ جائے تو خدا کا قصد چلا جاتا ہے اور بس یہی اس کا حظ ٹھہرتا ہے۔
   
یہاں بھی نہیں رکتا تو ’اخلاص‘ اور ’تجرد‘ ہی، جوکہ اس کو یہ سب راستہ چلاتا آیا، اب اس کے حق میں ایک آفت کی صورت دھارتا ہے۔ ’تنہائی‘ کی کچھ ایسی لت پڑ جاتی ہے کہ شریعت اور جہاد کے بہت سے مصالح معطل ہوجاتے ہیں۔ ’خلوت‘ کی طلب حد سے بڑھ جاتی ہے اور خدا کی جانب توجہ کی ’دلجمعی‘ اور اس میں ’لذت‘ پانے کے عمل میں وقت کے نہایت اہم فرائض قربان ہونے لگتے ہیں۔

    وہ یہاں رک جائے تو خدا کی جانب سفر ختم اور تسکینِ نفس کا عمل شروع۔ اور اگر راستے کی کسی منزل پہ رکنے کا روادار نہیں اور خدا کی جانب مسلسل بڑھتا چلا جانے کا عزم برقرار رکھتا ہے، یوں کہ اسکی نظر اس بات پر جا ٹکے کہ خدا اس سے عین اس لمحے کیا چاہتا ہے، وہ خدا کے در پہ چاک و چوبند نوکر کی طرح حکم لینے کیلئے کھڑا ہوجاتا ہے کہ خدا ایک بار اشارہ کردے کہ اُس کی مرضی اور خوشنودی فلاں چیز یا فلاں ادا میں پائی جاتی ہے وہ اپنی پسند نا پسند کو پس پشت ڈال کر اُس کے اشارے کی سمت میں ہی بھاگ کھڑا ہوگا، خدا کا اس سے عین اس وقت جو تقاضا ہے اس کی نگاہ اس پر سے ہٹ جانا ایک لمحے کیلئے بھی اِسکو گوارا نہیں، خواہ وہ اس کے نفس کو بھائے یا اس کیلئے باعث تکلیف ہو، اس کی خلوت کو برقرار رکھے یا لوگوں کے ہجوم میں اِس کو دھکیل دے، اِس کا اپنا کوئی اختیار ہے ہی نہیں سوائے جو اِس کا آقا اور اِس کا مالک ہی اس کیلئے اختیار کرے، یہ اُس کا بندۂ محض کہ جس کا نفس اس کیلئے اتنا بے وقعت ہوچکا کہ مالک کی مرضی اور خوشنودی کے سامنے اس کی اپنی پسند کوئی سوال ہی نہیں رہ گیا بلکہ تو ایک بڑی جسارت ہے.... غرض آدمی خدا کے اشارے کی سمت بھاگ اٹھنے کا شیوہ چھوڑنے پر تیار نہیں تو یہ ہے وہ شخص جو خدا کو اپنا نصب العین بنا رکھنے اور اس کا قصد کرنے سے دستبردار نہیں۔ 
’پہنچا ہوا‘ کوئی ہے تو دراصل یہی شخص!

جس کا ’سفر‘ جاری، ’عاجزی‘ برقرار، ’توحید‘ سلامت اور ’قصد‘ زندہ ہے ’پہنچا ہوا‘ وہ ہے.... نہ کہ تھک کر بیٹھ رہنے والا اور اپنی کمائی یہیں بیٹھ کر کھانے والا!


(استفادہ از: الفوائد، مؤلفہ ابن القیمؒ، ص 172)

Tuesday, September 06, 2016

میری خوشی، میری عید تم سے ہے

    اسے گئے ہوئے دس ماہ ہوگئے تھے اور آمنہ کو یوں لگ رہا تھا کہ کتنے سال ہو گئے ہيں اسے گئے ہوئے۔ ان دس ماہ ميں کہاں کہاں اسے اس کی کمی محسوس نہيں ہوئی تھی۔ اس کو بھیجنے ميں بھی اس کا اپنا ہاتھ تھا، اس ليے کسی کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی۔
    وليد ايک سپر سٹور چلاتا تھا اور اللہ کے فضل سے اچھی گزر بسر بھی ہو رہی تھی، دو چھوٹے بچے تھے، بوڑھے والد تھے اور ایک چھوٹا بھائی 14 سال کا اور بيوی آمنہ۔ سب کچھ بہت اچھے سے چل رہا تھا، سب خوش تھے، مطمئن تھے کہ ایسے میں آمنہ کی ایک سہيلی ايک دن بازار ميں اس سے ٹکرا گئی۔ حال احوال پوچھا تو پتا چلا کہ اس کا مياں تو مسقط چلا گیا ہے اور ان کے تو وارے نیارے ہو چکے ہيں۔ بہت جلد وہ نيا بنگلہ بنوانے کا سوچ رہی ہے اور سیکنڈ ہينڈ گاڑی بھی خريد لی ہے۔ بچے بھی اچھے انگلش پرائیویٹ سکول ميں داخل ہو چکے ہيں اور زندگی پہلے سے بہت بہتر ہو چکی ہے۔
   آمنہ گھر تو آ گئی ليکن اس کا ذہن اس کی باتوں ميں اٹک گيا تھا۔ اگر وليد بھی باہر چلا جائے تو ہمارے ليے بھی کتنی آسانی ہو جائے۔ شام کو اس نے وليد کو اپنی سہيلی کے بارے ميں بتایا اور کہنے لگی کہ اگر تم بھی باہر چلے جاؤ تو ہماری زندگی کتنی اچھی ہو جائے نا۔ وليد نے ايک طرح سے اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے چادر منہ پر تان لی اور کوئی جواب نہ ديا۔ دوسری شام آمنہ نے پھر اپنی بات دہرائی۔ ولید نے اس کو سمجھانے کے اندز ميں کہا کہ ”دیکھو، اللہ تعالی کا فضل ہے ہم بہت اچھے طريقے سے زندگی گزار رہے ہيں، کبھی فاقہ نہيں کيا، بچے اچھے سکول ميں جاتے ہيں۔ ميں تو مطمئن ہوں.“ مگر وہ آمنہ ہی کیا جو اپنی بات سے پيچھے ہٹ جائے۔ کھٹ سے بولی، ”ديکھو تمہارے پاس موٹرسائيکل ہے، دھوپ ہو یا بارش تم بچوں کو اس پر لے کر جاتے ہو۔ ابا جی کو ہسپتال لے کر جانا ہو تو بےچارے کتنی مشکل سے موٹرسائيکل پر بیٹھتے ہيں۔ سوچو اگر گاڑی ہو جائے گی تو کتنا آرام ہو جائے گا۔ بچوں کا سکول ہے تو اچھا مگرعام سا سکول ہے، کل جب بچے کسی اچھے اور بڑے سکول ميں جائيں گے توان کے مستقبل پر کتنا اچھا اثر پڑے گا؟ اس گھر ميں بچے ہمارے کمرے ميں سوتے ہيں، بڑا گھر ہوگا تو سب کا اپنا اپنا کمرہ ہو گا۔“ غرضیکہ آمنہ کے پاس ہر بات کی دليل موجود تھی۔
   آمنہ کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ ولید نے ايک دن اسے کہا کہ ”دیکھو، ميں چلا گيا تو تمہيں بہت مشکل ہو گی۔ بھائی چھوٹا ہے، بچے چھوٹے ہيں، ابا جی ضعيف ہيں۔ تم اکيلے کیسے سنبھالوگی سب کچھ؟“ ميں کر لوں گی سب کچھ، اب اتنا بھی مشکل نہيں۔ بچوں کو سکول وین لگوا دوں گی، بھائی کے پاس تو سائيکل ہے نا، اور اگر ابا جی نے ہسپتال جانا ہوا تو ٹيکسی سے چلے جائیں گے، اب تم بہانے مت بنائو۔ اس کی ضد کے ہاتھوں وليد مجبور ہو گيا اور پتا نہيں کن کن جتنوں سے اس نے ادھر ادھر کہلوا کر مسقط کا ويزا حاصل کر ليا۔ سٹور اس نے کرائے پر چڑھا دیا۔ جس دن اس نے جانا تھا، آمنہ تو اڑتی پھرتی تھی۔ ولید نے اسے کہا کہ ابھی بھی سوچ لو، بہت مشکل ہو جائے گی لیکن وہ بھی اپنے نام کی ہی تھی، نہیں مانی اور وہ بجھے دل کے ساتھ چلا گيا۔
    شام کو چھوٹے بيٹا گلی ميں کھيلتے ہوئے گرگيا، سر پر چوٹ لگ گئی، خون نکلنے لگا، آمنہ کے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے، ٹيکسی کروا کر ہسپتال پہنچی، مرہم پٹی کروائی، گھر واپس آئی تو شام کا کھانا بنا تھا، ابھی وہ بنا کر فارغ ہوئی تو ابا جی کی دوائی کا وقت ہو گيا۔ انہيں دوائی دی، کچھ دير ان کی ٹانگيں دبائيں۔ پھر سارے دروازے بند کیے اور تھکن سے نڈھال بستر پر چلی آئی مگ نيند کوسوں دور تھی۔ وليد کمرے میں نہيں تھا تو اسے عجیب عجيب لگ رہا تھا۔ خير کروٹيں بدلتے بدلتے نیند آ ہی گئی۔
    فجر کے وقت ابا جی نے آواز دی تو اس سے تو ہلا بھی نہيں جا رہا تھا ليکن اٹھنا پڑا۔ نماز پڑھی تو دودھ والا آ گیا۔ وہ لے کر اندر رکھا، ابھی وہ گيا ہی تھا کہ کوڑا اٹھانے والے نے دستک دی، اسے کوڑا پکڑايا۔ اس سے پہلے یہ سب کام وليد کرتا تھا۔ اتنے ميں ابا جی کو ناشتے اور چائے کی طلب ہوئی، فٹافٹ ان کے ليے ناشتہ اور چاۓ بنائی۔ اس کے بعد بچوں کو جگايا۔ بھاگم بھاگ ناشتہ بنايا، ان کے لنچ باکس بنائے، خود ناشتہ کرنے نہيں بيٹھی کيونکہ اسے آج ان کے ساتھ ہی نکلنا تھا تاکہ سکول وين کا بندوبست کر سکے۔ وہ سب کرتے کراتے 11 بجے واپسی ہوئی تو گھر الٹا پڑا تھا۔ بھوک بھی سخت لگی۔ چائے کے کپ کے ساتھ ایک رس کھايا اور گھرکو صاف کيا تو دوپہر کے کھانے کا وقت ہو گيا. کيا پکايا جائے؟ پہلے تو ولید دکان سے کسی بچے کے ہاتھ گھر جو بھيج ديتا تھا، وہ وہی پکا لیتی تھی یا وہ صبح بتا جاتا تھا کہ آج يہ پکا لينا۔ خیردال چاول بنا کر فارغ ہوئی تو بچے بھی آگئے۔ اباجی اور بچوں کو کھانا ديا، برتن دھوئے۔ اس دوران وليد کی اطلاع آ چکی تھی کہ وہ خيريت سے پہنچ چکا ہے۔ شام کو کمر سیدھی کرنے ليٹی ہی تھی کہ بيل بجی، ابا جی کے کوئی ملنے والے تھے۔ اب ان کے لیے چائے بنائی، گھر میں چائے کے ساتھ رکھنے کے لیے کچھ تھا نہيں، بچے مسجد گئے ہوۓ تھے، وليد ہوتا تو بھاگ کر لا ديتا۔ ليٹنے کی فرصت تو نہ ملی ليکن شام سر پر کھڑی تھی۔ اور وہی سب کچھ جو کل کيا تھا آج پھر کرنا تھا۔ ليکن اس نے وليد کو فون پر سب اچھا ہے، ٹھيک چل رہا ہے، کوئی مسئلہ نہيں کہہ کر اطمينان دلا تو ديا مگر اطمينان ابھی اس کی قسمت ميں تھا نہيں۔ رات کو ابا جی کو کھانسی کا دورہ پڑ گيا۔ کافی دیر سے آرام آ يا تو وہ سونے کے لیے کمرے ميں آ گئی۔
    اگلے دنوں ميں اسے لگنے لگا کہ وہ تو جيسے گھن چکر بن گئی ہے۔ باہر کے وہ سب کام جو ولید کرتا تھا اب اسے کرنے پڑتے تھے۔ گھر کے بہت سارے کاموں وہ اس کی مدد بھی کرتا تھا، اب وہ سب اسے ہی کرنے پڑتے تھے، ابا جی بوڑھے تھے، دیور اور بچے چھوٹے، وہ کتنی مدد کر سکتے تھے۔ 4 ، 5 ماہ کے اندر اندر اس کی ہمت جواب دينے لگی، اس کے انگ انگ ميں تکليف بیٹھ گئی، نہ وہ سکون سے سو سکے اور نہ دن کو آرام کر سکے۔ اس دوران ابا جی کو سپتال لے کر جانا، ان کی دوائياں لانا، بچوں کے ہوم ورک میں مدد، غرض کہ ہر کام اسے ہی کرنا تھا۔ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر تھک چکی تھی۔ رمضان بھی شروع ہو چکا تھا اور روٹين مزید سخت ہو گئی تھی، سحری، افطاری، عبادت، اور باقی سب کام۔ اسے شدت سے ولید کی کمی محسوس ہونے لگی۔ اسے اپنا فيصلہ غلط لگنے لگا۔ اچھی بھلی زندگی تھی۔ سکون و آرام تھا۔ سب کام ہو رہے تھے۔ سیر وتفریح بھی ہوتی تھی ليکن وليد کے جانے کے بعد جیسے زندگی جامد ہو گئی تھی۔ وہ چڑ چڑی ہو گئی تھی، بچے بدتميز ہو گئے تھے۔ ابا جی بےچارے اکيلے سارا دن کمرے ميں رہتے تھے۔
    عيد قريب تھی اور اس کے ہاتھ پاؤں پھولے جا رہے تھے کہ وہ سب کچھ کيسے کرے گی؟ آج اس نے وليد کو فون کیا تو سب اچھا ہے، نہيں کہا، پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی اور کہنے لگی ”وليد واپس آ جاؤ۔ ہم سب کو تمہاری ضرورت ہے، ہم یہاں اکٹھے مل کر بھلی بری گزار ليں گے۔ مجھے معاف کر دو۔ ميں نے ہی ناشکری کی اور ان دس ماہ میں مجھے اس کی کافی سزا مل گئی، تم واپس آ جاؤ۔ خدا کے ليے عید ہم سب کے ساتھ آ کر مناؤ، ہماری عيد تمہارے ساتھ ہی ہوگی.“
تحریر: ‎راحيلہ ساجد

Sunday, September 06, 2015

محبت


خالص محبت روح میں اتری اس روشبی کی مثل ہوتی ہے جو ظاہر اور باطن پر نور کر دیتی ہے، محبت اس نور کی روشنی ہے جو اس اصل نور کے سوا کسی اور نور کی محتاج نہیں، محبت اتنی ماورا ہے یہ جسکو چھوتی ہے اسے ماورا کر دیتی ہے یہ جب محبوب کو اپنے دھیان میں لے آۓ اس کا ذکر ارفع (رفعنا لک ذکرک) کر دیتی ہے، محبت دھوپ کی جھلستی تمازت میں سایہء ابر ہے، محبت عدو کی سازشوں میں قاصد کی پیغام بری ہے۔ محبت وسوسوں میں یار کے غافل ہوے جانے کا ڈر لیئے، محبوب کی جستجو کوبکو لیئے، محبوب کا دل پر دھرے ہاتھ کی تسلی ہے۔ محبت خیر ہے برکت ہے رحمت ہے، آزمائشوں میں سکینت ہے، محبت بددعا نہیں محبت دعا ہے، محبت اذیت و تکلیف نہیں محبت تکلیفوں میں راحت ہے، محبت صراط مستقیم ہے، محبت سلامتی ہے محبت ازل سے ہے ابد تک رہے گی، ہر شے فانی ہے الا اللہ، اللہ محبت ہے محبت کو بقا حاصل ہے، جو محبت میں ضم ہو گیا وہ وجود سے فنا ہو گیا، فقط محبوب رہ گیا، محبت اتنی خالص ہے کہ خواہش کی آزمائشوں میں ہر ہوس سے پاک کر دیتی ہے، تمنا سے آزاد، دلِ ناشاد کو شاد، برباد کو آباد، تکلیف کو راحت، وحشت کو سکون، خاک کو پاک کر دیتی ہے۔ باقی فقط ایک نقطہ بچتا ہے بس ایک حقیقت ۔۔ محبت۔!
محبت کی اپنی نگاہ ہے محبت کے اپنے مفہوم، محبت کی اپنی زباں ہے محبت کے اپنے اسلوب، محبت کا اپنا بیاں ہے محبت کے اپنے رموز، محبت کے اپنے استعارے ہیں اپنی تشبیہات۔۔! محبت چڑیا ہے روح کو چھوتی ہوا ہے، تو محبت چہچہاتی چڑیوں کو دیکھ کر ہوا کے تیز جھونکوں کو محسوس کرتے معصوم بچے کی نگاہ سے جھانکتی حیرانی ہے۔ محبت کی اپنی نگاہ ہے محبت کے اپنے مفہوم، محبت کی اپنی زباں ہے محبت کے اپنے اسلوب، محبت کا اپنا بیاں ہے محبت کے اپنے رموز، محبت کے اپنے استعارے ہیں اپنی تشبیہات۔۔! محبت چڑیا ہے روح کو چھوتی ہوا ہے، تو محبت چہچہاتی چڑیوں کو دیکھ کر ہوا کے تیز جھونکوں کو محسوس کرتے معصوم بچے کی نگاہ سے جھانکتی حیرانی ہے۔محبت چہروں اور آوازوں سے تھوڑی کی جاتی ہے۔ محبت تو رُوح سے کی جاتی ہے۔ دل سے کی جاتی ہے_ انسان سے کی جاتی ہے۔ اس کی خوبیوں سے کی جاتی ہے۔ محبت انسان کی غیر مرئی خصوصیات سے کی جاتی ہے۔ محبت ظاہری چیزوں سے نہیں کی جاتی ہے‘ کیونکہ یہ سدا رہنے والی چیزیں نہیں ہوتیں، یہ تو کبھی بھی کسی بھی وقت ساتھ چھوڑ جاتی ہیں۔

Saturday, September 06, 2014

نیرنگ: فوک وزڈم

نیرنگ: فوک وزڈم


   یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ایف ایس سی میں تھا - ہم لوگ مظفرآباد (آزاد کشمیر) میں رہتے تھے - بے فکری کے دن تھے - سکول کی بندشوں سے نئے نئے آزاد ہوکر ہم لوگ کالج کی کھلی فضاؤں میں محو پرواز تھے - اس زمانے میں ہم تین دوست ہوا کرتے تھے جن میں سے ایک کے اہل خانہ سیالکوٹ میں مقیم تھے لہٰذا اسکا گھر ہمارا فطری ٹھکانا ہوتا تھا

    اس دوست کے والد (الله انہیں جنت نصیب فرمائے) اس وقت ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر تھے انکی عمومی شہرت ایک انتہائی سخت گیر افسر اور انسان کی تھی ہمارے دوست کے ہاں ایک کافی پرانے اور عمررسیدہ ملازم تھے جنکا نام زمان تھا اور انہیں صوفی زمان کے نام سے جانا جاتا تھا - ہم لوگ انہیں زمان پاء جی کہا کرتے تھے- وہ دور بھی کچھ اچھا تھا اورعمر رسیدہ اور پرانے ملازمین کی عزت ظاہراً ہی نہیں بلکہ دلی طور پر کی جاتی تھی اور انہیں گھر کے ایک فرد کی حیثیت ہی دی جاتی تھی - زمان پاء جی ہمارے ساتھ بڑے بے تکلف تھے - دیہاتی پس منظر کا ہونے کی وجہ سے زمان پاء جی کی طبیعت میں صاف گوئی اور اکھڑ پن بھی بدرجہ اتم پایا جاتا تھا - انکے اکھڑ پن کا یہ عالم تھا کہ میرے دوست کے والد صاحب جن سے بحث یا اختلاف کا انکے ماتحت تو کیا ہم منصب بھی تصور نہیں کرسکتے تھے زمان پاء جی ان سے بھی وقتاً فوقتاً بحث اور اختلاف فرمایا کرتے تھے اور زیرعتاب آنے سے بھی بچ جایا کرتے تھے

   جوانی کے فطری تقاضوں کے پیش نظر ہمارے معمولات میں گاڑیوں میں بے مقصد گھومنا بھی ہوتا تھا جو اتنا  بے مقصد بھی نہیں تھا بلکہ ایک خاص مشن جسے عرف عام میں "پونڈی" کے طور پر جانا جاتا ہے کے تحت ہوتا تھا - اس زمانے کے مظفر آباد میں صرف دو ہی قابل ذکر جگہیں ایسی تھیں جہاں یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا تھا جن میں سے ایک شہر کا اکلوتا گرلز ڈگری کالج جسکے ساتھ ہی گرلز ہائی سکول متصل تھا اور دوسرا شہر کی واحد زنانہ مارکیٹ یعنی مدینہ مارکیٹ تھی - سو عمومی طور پر ہمارے روٹ میں یہ دونوں مقامات شامل ہوتے تھے - اکثر بازار سے سودا سلف وغیرہ لانے کے لئے زمان پاء جی بھی ہمارے ساتھ ہی گاڑی میں ہوتے اور بظاہر غیر متعلق نظر آتے ہوئے بھی ہم پر نظر رکھے ہوتے

  ایک دن ہم دوست کے گھر بیٹھے ہوئے تھے زمان پاء جی حسب معمول ہمارے لئے چائے لیکر آئے اور حسب عادت باتوں میں حصہ بھی لینا شروع کر دیا - باتوں باتوں میں زمان پاء جی اپنی پہاڑی زبان میں کہنے لگے "یرا تساں کو میں ایک بات سناواں؟" ہم نے کہا جی ضرور
اب جو قصہ انہوں نے سنایا میں اسے اردو میں سینسر کر کے سناتا ہوں

   ایک پہاڑی بکری چراگاہ پہنچی جہاں ایک گیدڑ کا بچہ جو بہت دیر سے بھوکا تھا، پہلے سے موجود تھا - بکری نے چرنا شروع کردیا - گیدڑ کا بچہ جس نے پہلی دفعہ پہاڑی بکری دیکھیتھی اسے پوری بکری میں سے جو چیز قابل توجہ نظر آئی وہ بکری کے لٹکتے ہوئے تھن تھے - اس نے پہلی بار ایسی چیز دیکھی تھی - اسے بھوک بھی بہت لگی ہوئی تھی اسے لگا کہ یہ ٹوٹ کرابھی نیچے گر جائیں گے اور میں انہیں کھا لونگا کیونکہ بکری کی جسامت کے پیش نظر اس پر حملہ تو ممکن نہیں - بکری اپنی دھن میں چرتی رہی اور گیدڑ بھوکے پیٹ نرم گلابی گوشت کے خوابوں میں مست پیچھے پیچھے چلتا رہا - ہوتے ہوتے شام ہوگئی بکری نے اپنی راہ لی اور گیدڑ نڈھال ہوکر وہیں گر گیا

   تم لوگوں کی مثال بھی اس گیدڑ جیسی ہے کہ گاڑیوں میں پیچھے پیچھے پھرتے رہتے ہو ہر لڑکی آرام سے گھر چلی جاتی ہے اور تم تھک کے واپس اپنےگھر، ملنا ملانا کچھ بھی نہیں اور خواری الگ
اس وقت تو ہم نے زمان پاء جی کی بات سنی ان سنی کردی لیکن کچھ ہی عرصے میں اس کی بہت اچھی طرح سمجھ آگئی

   حالیہ دنوں میں میڈیا کی جنگ اور سیاسی جماعتوں کی پھرتیاں دیکھ کر نہ جانے کیوں زمان پاء جی کا سنایا ہوا قصہ یاد آ رہا ہے مگر ہماری طرح اس وقت یہ قصہ کسی کو سمجھ نہیں آئے گا اور جس وقت سمجھ آئیگا اس وقت اس کا کوئی خاص مصرف نہیں رہے گا 

نقطے سے نکتے تک : آزمائش اور استقامت

نقطے سے نکتے تک : آزمائش اور استقامت

    الله تعالیٰ نے بنی نوح انسان کے لیے جو انبیائے کرام مبعوث فرمائے ہیں انکا کام لوگوں کی حق کی طرف رہنمائی تھا ـ ظاهر ہے اتنا کھٹن کام بغیر تکلیف اور مشقت کے کیسے پایہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے ـ کم وبیش ہر نبی کو اس کی امت کی طرف سے مصائب اور پریشانیوں کا کوہ گراں عبور کرنا پڑتا تھا تب جاکر کہیں کچھ لوگ انکی دعوت پر لبیک کہتے تھے ـ الله تعالی نے ان میں سے پانچ اولوالعزم پیغمبروں کا تذکرہ بطور خاص کیا ہے ـ جن میں حضرت نوح علیہ السلام حضرت ابراهیم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام حضرت عیسی علیہ سلام اور جناب محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اسماء گرامی ہیں ـــ ان انبیاء کرام کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انکی آزمائشیں بہت ہی سخت تھیں ـ


    حضرت ابراهیم علیہ السلام کی آزمائشیں تو بہت زیادہ ہیں لیکن جس آزمائش پر آسمان کے فرشتے بھی رو پڑے تھے وہ آزمائش تھی اپنے محبوب لخت جگر سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنا کہ جس کو رب سے رو رو کر مانگا گیا تھا ـ لیکن قربان جاؤں خلیل الله کی وفا پر کہ اپنے رب کے حکم پر بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی ــ پھر رب نے صلہ بھی کیا خوب دیا فرمایا " انی جاعلک للناس اماما" آج یہودی بھی یہ دعوی کرتے ہیں کہ ابراهیم ہمارا ہے عیسائی بھی ابراهیم علیہ السلام کواپنا پیشوا تسلیم کرتے ہیں وہ الگ بات ہے کہ قرآن ان کے اس دعوے کی واشگاف الفاظ میں تردید کرتا ہے ـ" ما کان ابراهیم یہودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما "

    اگر اپنے اسلاف کی بات کی جائے تو ان میں امام احمد بن حنبل رح کی آزمائش اور استقامت خلق قرآن کے مسئلے پر ہے شاید ہی اسکی نظیر مل سکے ـ سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ امام صاحب کو قریبا اٹھائیس مہنیے تک قید میں رکھا گیا اور ایسی شدت کے کوڑے لگائے جاتے کہ اگر ویسا ایک کوڑا ہاتھی پر پڑتا تو چیخ مار کر بھاگتا مگر امام صاحب کی استقامت کو سلام ہےکہ جو کوڑے کھا کھا کر بے ہوش تو ہوجاتے مگر خلق قرآن کے عقیدے کا اقرار کرنا گوارا نہ کیا ـ حتی کہ امام بخاری رح کے استاد بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ " الله تعالی نے اس دین کے غلبہ اور حفاظت کا کام دو شخصوں سے لیا ہے کہ جن کا تیسرا ہمسر نظر نہیں آتا ـ

    ارتداد کے موقع پر صدیق اکبر رضی الله عنہ اور فتنہ خلق قرآن کے موقع پر احمد بن حنبل ــ امام صاحب کی حق گوئی اور استقامت کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ خلق قرآن کا فتنہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا دوسرا انکے جنازے کو دیکھ کر بیس ہزار غیر مسلم اسلام لے آئے تھے ـ روایات میں آتا ہے کہ قریبا آٹھ لاکھ لوگوں نے امام صاحب کی نماز جنازہ ادا کی ـ امام شافعی رح جیسے فقیہ نےانکی اس قمیص کو دھوکر پیا کہ جو کوڑے لگتے وقت امام صاحب کے جسم پر تھی ـ یہ ایک دو واقعات نمونے کے طور پر تھے ـ حق پر استقامت کا صلہ الله کی طرف سے ضرور داعیوں کو ملتا ہے ـ اور وہ لوگوں کی ھدایت کا زریعہ بنتے ہیں ـ ایک الله والے کا قول ہے کہ استقامت ہزار کرامتوں سے افضل ہے ـ ایک موقع پر الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے بھی اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان پر وہ آیت بھاری ہے کہ جس پر استقامت کا حکم دیا گیا ہے ـ الله تعالی ہم کو بھی حق پر استقامت نصیب فرمائے ـ آمین

!سنو بھی : ذرا کھل کر ' ذرا ہٹ کر


میرے دیس میں ان دنوں
شور بپا ہے چاروں طرف
' ہم بدلیں گے پاکستان '

نعرہ سب کا ایک سا ہے
سب سے بڑھ  کر نوجوان نسل آگے آگے دوڑ رہی ہے
اسلام کو تو چھوڑ رہی ہے اغیار سے سب کو جوڑ رہی ہے 

ان نوجوانوں کو کوئی بتائے
نہ لا سکا ہے انقلاب کوئی
چھوڑ کر اپنے اسلاف کی روش کو
اور جن کو سمجھتے ہو تم مسیحا
ان کا حال تو ذرا سن لو
اہل ہوس میں گرم ہے پھر جنگ اقتدار
شعلوں کی زد میں سارا گلستاں ہے دوستو

   وقت گزاری کے لئے لکھ رہا ہوں کیوں کہ جانتا ہوں میرے لفظوں میں وہ تاثیر نہیں کہ آپ لوگوں کے دلوں کو پھیر دے -  موضوع سیدھا سادہ سا ہے  انگریزی فلمیں   انگریزی گانے ' انڈین فلمیں  انڈین گانے ' پاکستانی فلمیں   پاکستانی گانے - نوجوان نسل بلخصوص طبقہ اشرفیہ ' اپر مڈل کلاس اور مڈل کلاس کی نوجوان نسل مکمل طور پر رسیا ہو چکی ان خرافات کی - اور اس دلدل سے نکلنا ہوا مشکل -

  میں آپ کے سامنے قرآن و حدیث بلکل نہیں پیش کروں گا - کیوں کہ اگر میں نے پیش کر دیا اور کسی کے ماتھے پر ذرا سی شکن بھی آ گئی تو اس کی پکڑ سخت ہو گی کیوں کہ ہم مسلمان تبھی کہلاتے ہیں جب قرآن و حدیث پر دل و جان سے کم از کم ایمان تو رکھیں ' عمل بعد کی بات - 

  اس لئے میں اک نئے انداز سے آپ تک پہنچاؤں گا اپنے دل کی آواز (سوز و غم بھی که سکتے ہیں )اک ہوتا ہے ہیرو اور اک ہوتی ہے ہیروئین ' مرکزی کردار کسی بھی فلم کے - ٩٩% فلموں میں عشق و محبت و پیار و الفت  وغیرہ ہی بنیادی اجزا ہوتے ہیں -  کردار و الفاظ بہت  سوچ سمجھ کر سلیکٹ کئے جاتے ہیں تا کہ ناظرین زیادہ سے زیادہ محظوظ ہو سکیں اور پھر گانے کے بول تو سونے پر سہاگے کا کام کرتے ہیں - اور گانے کے دوران کی حرکات و سکنات تو آسمان پر پہنچا دیتی ہیں ناظرین کو - 

  الله تعالیٰ نے مرد ذات میں شہوت کے مادے کو عورت ذات سے زیادہ قوی بنایا ہے - قدرتی طور پر مرد ذات  میں عورت ذات کی خواہش رکھ دی گئی - اسی لئے اس کی ایک مثال جو کہ بہت بری ہے وہ ہے زنا با لجبر ' یہ تبھی انسان کرتا ہے جب شہوت پر کنٹرول کھو دیتا ہے - باقی اس بات سے انکار نہیں کہ عورت میں شہوت ہوتی ہی نہیں ' بلکل موجود ہوتی ہے مگر اس پر کئی اور چیزیں غالب ہوتی ہیں - تفصیل کسی اور موقع پر ' ابھی موضوع پر واپس آتا ہوں - مختصرا میری قوم کے نوجوان اسی لئے فلمیں دیکھتے گانے سنتے ایسی محافل میں جاتے ایسی محافل سجاتے - فلموں میں سب سے پسندیدہ مناظر گانے کے دوران والے ہوتے ہیں - اور خاص کر وہ گانا جس میں لفظوں اور حرکات میں مطابقت پائی جاتی ہو -  اور میری قوم کے نوجوان لڑکوں کی نظریں ہیرو پر بہت کم اور ہیروئن پر بہت دیر جمی رہتی ہیں گانے کے دوران - 

   ظاہر ہے مرد ذات یا نوجوان لڑکا ' ہیروئن کو اسی لئے دیکھتا ہے کہ وہ خوبصورت ' وہ پر کشش ' اس کا نسوانی حسن ' اس کے مختصر ترین کپڑے' اس کا چھلکتا جسم   - اتنی منظر کشی کافی ہے - - اب یہاں پر خاص نقطہ یہ ہے کہ کیا وہ تمام حضرات اس ہیروئن کی جگہ اپنی بیوی ' بیٹی ' بہن یا ماں کو دیکھنا پسند کریں گے  ؟(کیا وہ لوگ یہ کام اپنی عورتوں کو کرنے کی اجازت دیں گے ؟؟ ( ہر ہفتے کسی اور کی باہوں میں دوسروں کی عورتوں کو دیکھ کر خوش ہونے والے ' لذت اٹھانے والے ' محظوظ ہونے والے ' آنکھوں کی ٹھنڈک پانے والے  کیوں نہیں  اپنے گھر والوں کو ویسا کرنے دیتے ؟ 

  اب آتے ہیں نوجوان لڑکیوں کی سوچ کی طرف ' میرے خیال سے نوجوان لڑکیاں ہیرو پر زیادہ نظریں مرکوز کرتی ہوں گی ( میرا خیال غلط بھی ہو سکتا ہے) مگر یہاں اک بات اچھی ہے کہ ہیرو کے زیادہ تر کپڑے پورے ہی ہوتے ' ستر چھپا ہی ہوتا  سو لڑکیاں ' لڑکوں کی نسبت کم گناہ لکھوا پاتیں اب ذرا یہ مسلم لڑکیاں ہیروئن کی جگہ خود کو رکھیں اور سوچیں  کہ ہر ہفتے اک نیا غیر مرد آپ کے ساتھ ہو اور پوری دنیا آپ کو دیکھے (ہیروئن ہوتی نا آپ ) - پھر وہ تمام مناظر سوچیں ذرا آپ کہ آپ کے ساتھ ہیرو بھی وہی کچھ کر رہا ہو - - میں تو صرف لکھ رہا ہوں ہو سکتا ہے آپ کا پارہ چڑھ رہا ہو کہ کیا بکواس کر رہا ہوں - مگر مجبورا آپ سب خواتین و حضرات کو ماننا پڑے گا کہ میں غلط کچھ بھی نہیں که رہا -
  
  فلمیں دیکھنے اور گانے سننے کا رائی کے دانے کے برابر بھی مثبت احتمال نہیں نکالا جا سکتا نہیں بتایا جا سکتا -
بحثیت اک کمزور ترین درجے والا مسلمان ہو کر بھی ہم سب میں سے کوئی بھی فلمیں دیکھنے اور گانے سننے کا دفاع نہیں کر سکتا -  اگر اسلامی نقطہ نظر کو سائیڈ پر رکھ کر اوپر بیان کئے گئے سوالات کے جوابات آپ میں سے کوئی دے سکتا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنا عمل دکھا دے  کہ یہ دیکھو میرے گھر کی عورتیں یہ یہ کر رہیں ' اور اگر لڑکیاں جواب دینا چاہیں تو وہ بھی اپنے ہر ہفتے کے ہیرو کا نام بتا دیں - 

 فلمیں اور گانے چاہے وقت گزاری کے لئے دیکھیں اور سنیں مگر اثر ضرور ہو گا - وہ اثر جو کہ آپ خود نہیں چاہتے کہ ہو اصل میں مگر ذرا ان پہلوؤں پر غور کریں شائد کہ آپ تبدیلی لانے کے قابل ہو جائیں -

بات ختم کرتا ہوں اقبال کے اس شعر کے ساتھ 
چاہتے سب ہيں کہ ہوں اوج ثريا پہ مقيم
پہلے ويسا کوئي پيدا تو کرے قلب سليم




خوشی کا اُصول


 خوشی کا اُصول


     اس پوسٹ سے قبل میں ایک بلاگ پوسٹ لکھ چُکی ہوں جس کا موضوع خوشی اور ٹایئٹل "خوشی کا راز " تھا۔ آج جو پیشِ خدمت ہے اسکا نام ہے" خوشی کا اُصول" اب آپ سوچیں گے کہ خوشی کے اُصول اور خوشی کے راز میں کیا فرق ہوگیا؟عقلمند ویسے ایسا نہیں سوچیں گے کیونکہ راز اور اُصول میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ خوشی کے ناکام راز آپ کے سامنے پہلے ہی فاش ہوچکے ہیں اب آپ کو خوشی کے لاگو اْصولوں کا سامنا کروانے کی سعی کرتے ہیں.
  خوشی کا کیا اُصول ہوتا ہے؟

    پہلے دادی اور پھر اپنے پاپا سے کہانیاں سُننے کا شوق بچپن میں میرے سر پر سوار تھا کہانیاں جو لوک داستانوں کی شکل میں ہوتی ہیں یا بادشاہوں کی کہانیاں اپنے اندر بہت گہرے راز سموئے ہوئے ہیں۔ بچپن میں دہرائی جانے والی ان کہانیوں میں ایک ایسے قصے کا بھی ذکر تھا جس کے اندر خوشی کا اُصول بیان ہوا ہے یہ ایک جابر اُصول تھا مگر کسی نہ کسی صورت میں اُصول سارے ہی جابر ہوتے ہیں۔ کہانی میں ایک ایسی ریاست کا ذکر ہے جس کے بادشاہ کا ایک ہی اُصول ہے کہ رعایا کو جیسی بھی حالت میں رکھا جائے مگر بادشاہ اُن سے روز رات کو ایک سوال ضرور پوچھے گا کہ "خوش ہو؟" اور سب نے ہاں میں ہی جواب دینا ہے کوئی بھی "نہ" میں جواب نہیں دے سکتا۔ نفی میں جواب دینے والے کو سخت سے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا ، اب بادشاہ کی ریاست میں رعایا کو دن رات کام کروایا جاتا ہے پورے دن کی مزدوری کے بعد کھانے کو ایک سوکھی روٹی اور دال دی جاتی اور پھر رات کو جب بادشاہ سلامت پوچھتے کہ "خوش ہو؟" تو سب یہی جواب دیتے کہ خوش ہیں اس ایک اُصول کی کوئی خلاف ورزی نہیں کرسکتا تھا پھر کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایک انتہائی چالاک لڑکا بادشاہ سے بدلا لیتا ہے اور اس کا جینا محال کردیتا ہے اور ہر بار سوال پوچھتا ہے کہ "بادشاہ سلامت خوش ہیں؟" کیونکہ اُصول بادشاہ پر بھی لاگو ہوتا تھا، ریاست جیسی بھی تھی استثنیٰ سے عاری نہیں تھی تو بیچارے بادشاہ کو اپنا سب کچھ لُٹا کر بھی جواب دینا پڑتا کہ ہاں خوش ہوں، یہ پنجاب کی ایک مشہور کہانی یا قصہ ہے جو دادیاں نانیاں سُناتی ہیں میری دادی نے ہی میرے پاپا کو سُنائی پھر وہ آگے پھیلائی گئی مگر اس کہانی میں کیا سبق چُھپا ہے؟؟ تو وہ ہے خوشی کا اُصول ۔ کیا ایسا خوشی کا اُصول ہوتا ہے؟ بس دیکھ لیں۔

        ہمارے گھر بھی ایک ریاست ہیں جہاں سارے گھر کی مالکن اور بادشاہ "ماں " ہوتی ہے اور ہماری عموماً سب مایئں اِسی اُصول کو اپنے لاشعور میں سمو کر اپنی اس ریاست کے امور سرانجام دے رہی ہیں ہم سب کے گھروں کا صرف ایک اُصول ہے  بادشاہ ماں ہے جس نے بغیر الفاظ کے یہ سوال پوچھتے  رہنا ہے کہ "خوش ہو؟" اور رعایا یعنی بچوں نے یہی جواب دینا ہے کہ "ہاں خوش ہیں" نہیں کہنے کا یہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا "نہیں" کہنے کی صورت میں کیا ہوتا ہے؟ مجھے نہیں معلوم سزا کس حد کی ہوتی ہوگی، کہاں تک ہوتی ہوگی یا ہوتی بھی ہو کہ یا نہیں مگر یہ روایت ہی نہیں ہے کہ انکار کیا جائے "نہیں" کا کوئی جواز نہیں ہے،ماں کیسی بھی پڑھی لکھی ہو یا ان پڑھ ، مڈل کلاس ہو یا اپر مڈل کلاس سب کی ریاست کا ایک ہی اُصول ہے "خوش ہو" "ہاں جی خوش ہیں " جو ملے خوش ہو ، نہیں ملا خوش ہو ، ماں کبھی "نہیں خوش ہوں" نہیں سُنتی اور کبھی یہ سوال پوچھتی بھی نہیں ہے کہ خوش ہو یا نہیں مگر بہانوں بہانوں میں اس کا جواب مانگتی رہتی ہے ، کوئی بھی گلہ شکوہ سُننے سے انکاری ماں ہمیشہ بچوں کو خوش ہی ماننا چاہتی ہے ، یہ خدانخواستہ کوئی برائی نہیں ہے جو یہاں بیان کی جارہی ہے نہ ہی اس کا تعلق ماں جیسی عظیم ہستی کے احسانات و محبت سے انکار ہے یہ محض رویوں کی بات ہے اور اس بات کے ایمان کی کہ میرے بچے خوش ہیں ، اب چاہے وہ خوش نہیں ہیں مگر پھر بھی وہ اس بات کا ایمان کبھی نہیں ٹوٹنے دیتیں کہ میرا بچہ خوش ہے ۔اسکا تعلق صنفی تفریق سے بھی نہیں ہے بیٹا ہو یا بیٹی ماں اِس اُصول کا استعمال دونوں پر ہی برابری سے کرتی ہے اور کبھی اس اُصول میں تفریق نہیں برتتی ، میں نے ماؤں کو اپنے بچوں کے لئے مانگتے دیکھا ، کبھی اُن کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش کے لئے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوئے دیکھا،کبھی اپنے بچے کے علاج کے لئے زاروقطار  روتے ہوئے دیکھا ہے ، دوسروں سے اپنے بچوں کی خاطر لڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے مگر جب بات بچے اور ماں کے درمیان کے تعلق پر آتی ہے ماں فوراً وہ بادشاہ بن جاتی ہے جسکو اپنے بچے کی "ہاں" ہی سُننی ہے ، میں نے پچھلے دنوں کچھ لوگوں کو بہت عجیب گفتگو کرتے سُنا وہ کہہ رہے تھے کہ "ماں اور خدا کے سوا کوئی انسان کے شکوے نہیں سُنتا" خدا سے شکوے کرنے کو لوگ ناشُکری قرار دیتے ہیں اور ایسی بھی  "ماں" ہے بھئی جو شکوہ سُن لیتی ہے؟ ہماری تو نہیں سُنتی یہ مزاق نہیں ہے ہماری ماؤں کا یہ ایمان ہے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ تم خوش نہ ہو ، شائد یہ اُصول بھی ماں نے خدا سے ہی سیکھا ہے خدا بھی بندے کو کبھی گراتا ہے کبھی اُٹھاتا ہے کبھی نواز دیتا ہے کبھی چھین لیتا ہے مگر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں خوش نہیں ہوں ، خدا کا حکم ہے کہ ہر حال میں خوش رہنا ہے یہی خوشی کا اُصول ہوتا ہے یہی ماں کا اُصول ہوتا ہے ہماری ماؤں کے لئے ہم دنیا کے خوش و خرم انسان ہیں کیونکہ اُنہوں نے جب بھی پوچھنا ہے تم خوش ہو تو "ہاں خوش ہیں" ہی جواب دینا ہے ، یہ اُصول بھی ماں بادشاہ کا اپنا بنایا ہوا ہے اور وہ لوگ جن کی ماں "نہیں خوش ہوں " سُن لیتے ہیں وہ بھی خوش قسمت انسان ہیں یہ بھی ماں کی محبت کا ایک طور ہوتا ہوگااُس کی سہہ جانے کی ایک صلاحیت ہوتی ہوگی  مگر شاید وہ اُصول سے آزاد ہوں گے خوشی کے اُصول سے آزاد ۔یہ خوشی کا اُصول جو یہاں لاگو ہے یہ ماں نے آپکو زندگی کی شاید ایک پریکٹیس کروانی ہوتی ہے تسلیم و رضا سیکھانی ہوتی ہے کہ خدا کسی بھی حال میں رکھے جواب "خوش ہوں " ہی دینا ہے۔

Friday, September 05, 2014

ذوقِ طلب

                      

                                    




  میری طلب کسی اور سے نہیں، اپنے آپ سے کرنا! مجھے کسی اور کے پاس نہیں، اپنے ہی پاس ڈھونڈنا! میں تمہیں وہاں مل جاؤں تو ٹھیک ورنہ اور کہیں نہ ملوں گا! کسی کے پاس کیوں جاؤ؟ تمہارے سب سے قریب میں ہی ہوں، تمہیں میں وہاں نہیں ملا تو بغور دیکھو کوئی خلل تمہارے ہی اندر یا کہیں آس پاس ہوگا! ’دور‘ جانا عبث ہے!!!

        وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ !!!

     ’گھر‘ خالی کر لو، میں آبسوں گا!!!    قسمت والے ’قربت‘ کا جو لطف لیتے ہیں، اگر کہیں تم اس کا اندازہ کر لو تو اپنی اِس ’دوری‘ پہ تمہارے یہاں ماتم کی صفیں بچھ جائیں!!!
      جس کو راستہ طویل لگے، اس کے قدم آہستہ ہو ہی جاتے ہیں!!!
      ’معرفت‘ وہ بساط ہے جس پر ’منظورِ نظر‘ لوگوں کے سوا کسی کو پیر دھرنے کی اجازت نہیں!
        ’محبت‘ وہ نغمہ ہے جس پر وہی دل طرب میں آئے گا جو ہر دوسرے نغمے سے اچاٹ ہوچکا! ’محبت‘ ایک میٹھا لذیذ چشمہ ہے جس کے چاروں طرف تپتا صحرا ہے اور جس کی نشان دہی کیلئے ’بنی بنائی‘ پگڈنڈیاں نہیں پائی جاتیں! یہی وجہ تو ہے کہ اس تک کوئی کوئی پہنچتا ہے، البتہ ’طلبگار‘ اس تک پہنچے بغیر نہیں رہتے اور نہ کبھی اس کا راستہ بھولتے ہیں!
      سبحان اللہ! جنت کی دلہن ’رشتے‘ کیلئے آنے والوں کی راہ میں سج کر بیٹھی، اور تو نے دیکھا ذوق والے اس کی مانگ بھرنے کیلئے ’مِہر‘ کا بندوبست کرتے بھاگے پھرتے ہیں.... خدائے رب العزت اپنے اسماءوصفات کی راہ سے قلوب پر جلو گر ہوا اور قسمت والے اُس کی طلب میں رات دن ایک کر چکے.... اور تو سدا کا بدبخت، جس نے اِس ’مردار‘ سے ہی فرصت نہ پائی!!!
      ’عبادت‘ کرنے والے کو شجرِ ’طوبیٰ ‘ کے تلے دم لینے سے پہلے آرام کہاں!؟ چشم تصور سے اپنے آپ کو اس کی چھاؤں میں ٹھاٹھ سے مجلسیں کرتا ہوا دیکھو، یہ سب محنت آپ سے آپ آسان ہوجائے گی! طالبِ صادق کو ’یوم المزید‘ سے پہلے قرار کہاں!؟ ذرا اس دن کا منظر اپنے سامنے لاؤ، اس کیلئے آج جو کچھ کر رہے ہو، نہایت بھلا لگنے لگے گا!     امام احمد سے پوچھا گیا: مومن کو آخر آرام بھی کبھی دیکھنے کو ملے گا؟        فرمایا: ہاں، جب جنت میں پہلا قدم دھر لےگا!

     اس مختصر زندگانی میں اُس کی جانب یک رخ رہو، مابعد الموت کے اربوں کھربوں سال وہ تمہیں کفایت کرتارہے گا!

    بہشت کی روحیں بڑی ہی عجیب نکلیں۔ قلوب کی سواریوں پر وہ سامان لادا کہ الامان والحفیظ! گویا دنیا خالی کر کے رکھ دیں گے! لاکھ فرمائشیں ہوئیں کہ راستے میں ذرا سامان کھولو تو۔ پر نہیں مانے۔ جواب دیا سامان بادشاہ کا ہے بادشاہ کے پاس جا کر کھلے گا! یہ قافلے چلے جاتے دیکھنا ہوں تو کبھی ان کو سحر کے وقت دیکھو! نسیمِ سحر شاید انہی کی راہ دیکھنے نکلتی ہے! دشتِ ہویٰ کو اقدامِ عزم سے یوں خوشی خوشی پار کر گئے کہ پتہ ہی نہ چلا! زیادہ نہیں چلنا پڑا، کہ کیا دیکھتے ہیں، واہ! منزل آگئی!!! شہرِ وصل میں پہنچے تو انعامِ ابد سامنے تھا!!! خلد کی راحت نے دور ہی سے استقبال کیلئے بازو پھیلا دیے!!!

     بادشاہ نے ہیرے جواہرات کے بے پناہ خزانے کسی بیابان میں رکھ چھوڑے ہیں، اور کسی کو ان کی خبر نہیں سوائے بادشاہ کے اپنے خاص لوگوں کے۔ ان خزانوں کا سراغ لگانا چاہو، تو بغور دیکھنا بادشاہ کے یہ خواص اور مقرب آدھی رات کو اٹھ کر بھلا کہاں جاتے ہیں! ان کے پیچھے پیچھے چل دو، تو بھی کچھ حرج نہیں!!!
         خزانوں کی کوئی حد تھوڑی ہے!!! 

   پہرہ داروں کیلئے شب بیداری کوئی بات نہ رہی؛ کہ جانتے ہیں ان کی ’جاگتے رہو‘ کی آوازیں بادشاہ تک جاتی ہیں!

     سلمہ بن دینارؒ کہتے ہیں:
         جو چیز تمہیں پسند ہے کہ وہ آخرت میں تمہارے ساتھ ہو اُس کو ابھی سے بُک کروا دو۔ ایسا نہ ہو تم چلے جاؤ اور یہ پیچھے رہ جائے! جس چیز کے آخرت میں تمہارے پاس پائے جانے سے تمہاری جان جاتی ہے اس سے آج ہی جان چھڑا لو۔ ایسا نہ ہو کہ جانے لگو تو سامان میں ساتھ ہی چلی جائے!(ماخوذ از الفوائد، مؤلفہ ابن قیم)

نفع بخش تجارت



      غروب آفتاب کے بعد جوں جوں تاریکی بڑھ رہی تھی، اس کے ساتھ ساتھ چاند بھی آسمان پر بلند ہو رہا تھا۔ نخلستانوں کے درمیان سے گزرنے والی سڑک جو مدینے کی طرف جاتی تھی، اب سنسان ہو چکی تھی۔ دور سے سرپٹ گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز اس سناٹے میں ہلکا ہلکا سا لرزہ پیدا کر رہی تھی۔ کھجور کے درختوں کے درمیان سے چھن کر آنے والی چاندنی بار بار گھڑ سوار کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ وہ کوئی ساٹھ سال کی عمر کا مضبوط جسم کا چاک و چوبند آدمی دکھائی دیتا تھا۔ لمبی مسافت کی تھکن اس کے چہرے پر ظاہر تھی۔ منزل کے قریب ہونے کی وجہ سے سوار نے اس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دی تھیں۔ رفتہ رفتہ باغات کے درمیان اکا دکا مکانات اور حویلیاں بھی ابھرنے لگیں تھیں۔ حتی کہ وہ شہر میں داخل ہوگیا۔





    وہ گزرنے والی ہر گلی اور مکان کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا، جیسے کسی مکان کو تلاش کر رہا ہو۔ کبھی کسی مکان کے قریب گھوڑے کو روکتا لیکن پھر آگے چلنے کے لیے اس کی لگام ہلا دیتا۔ بازاروں اور چوراہوں میں آدمیوں کی آمدورفت ابھی جاری تھی۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی اسے پہچانتا نہ تھا۔اب وہ گھوڑے سے نیچے اتر آیا اور گھوڑے کی لگامیں ہاتھ میں پکڑ کر چلنے لگا۔ پھر ایک مکان کے سامنے وہ رک گیا۔ اس نے ذہن پر زور دیا۔ اس کی یاد داشت جاگی۔ خوشی اس کے چہرے پر ظاہر ہوئی اور پھر وہ زیر لب بڑبڑانے لگا: "یہی میرا گھر ہے۔ یہی میرا گھر ہے۔"دروازہ کھلا ہوا تھا۔ شوق سے وہ بلا اجازت ہی اندر داخل ہوگیا۔بالا خانے پر موجود گھر کے مالک نے نیچے صحن میں گھوڑے کی آہٹ سنی تو اس نے کھڑکی سے نیچے دیکھا۔ وہاں ایک مسلح اجنبی کھڑا تھا۔ وہ غضب ناک ہو کر نیچے اتر آیا۔ وہ تیس سال کی عمر کا تنومند جوان دکھائی دیتا تھا۔ آتے ہی اجنبی کو پکڑا اور سخت لہجے میں کہا: "اے دشمن خدا، رات کی تاریکی میں تو گھر کے اندر کیوں آیا؟"اجنبی گھبرا گیا، وہ صرف اتنا ہی کہہ پا رہا تھا: "دیکھو! میں اسے اپنا گھر سمجھ کر اندر آگیا اور سچ مچ یہ میرا ہی گھر ہے۔"لیکن گھر کا مالک گرج رہا تھا: "میں تجھے دیکھو لوں گا۔"دونوں کے باہم الجھنے سے شور زیادہ بلند ہوا تو چند پڑوسی بھی آگئے۔ انھیں دیکھ کر اجنبی بجائے گھبرانے کے زور زور سے کہنے لگا:"لوگو! کیا یہ میرا گھر کسی دوسرے کے قبضے میں چلا گیا ہے؟ کیا میری بیوی فوت ہوگئی ہے؟ تم میں سے کوئی بھی مجھے نہیں پہچانتا؟"پڑوسیوں کے ہجوم میں سے دو بزرگوں نے آگے بڑھ کر اسے پہچاننے کی کوشش کی تو اس نے کہا: "کیا تم بھول گئے کہ میں فروخ ہوں؟ کیا پڑوسیوں میں کوئی بھی فروخ کو پہچاننے والا اب مدینہ میں نہیں رہا جو تیس برس پہلے اسلامی لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے گیا تھا۔۔۔۔؟"یہ بات سنتے ہی ہر کوئی اپنی جگہ پر دم بخود رہ گیا۔ مجمع پر ایک گہرا سکوت طاری ہوگیا جیسے ہجوم میں موجود ہر شخص یادداشت کے دھندلے مناظر میں کچھ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔


        رحلت نبوی کے بعد چالیس برس گزر چکے تھے۔ اللہ کے حکم میں رکاوٹ بننے والے حکمرانوں کا عام لوگوں کے دلوں پر خوف اتارنے کے لیے اسلامی فوجیں آگے ہی آگے بڑھ رہی تھیں۔ انہی لشکروں میں سے ایک لشکر سجستان کو فتح کرنے کے لیے روانہ ہوا، جس کی قیادت ایک بزرگ صحابی ربیع بن زیاد حارثی رضی اللہ عنہ کر رہے تھے۔ ان کے ہمراہ فروخ نامی ان کا غلام بھی تھا۔سجستان پر فتح کا پرچم لہرانے کے بعد ماورائے النہر کے علاقے پر ان کی نگاہیں تھیں لیکن دریائے سیحوں کی خوں خوار موجیں ان کی راہ میں حائل تھیں۔ انھوں نے ازسرنو فوج ترتیب دی اور پھر اللہ کا نام لے کر موجوں کے سینے کو چیرتے ہوئے دریا عبور کرکے دشمن کے روبرو ہوگئے۔ جب میدان کارزار گرم ہوا تو ربیع بن زیاد حارثی کی جاں باز سپاہ نے شجاعت و بہادری کے ایسے جوہر دکھائے کہ دشمن کے پاؤں اکھڑ گئے۔ ان کے غلام فروخ نے بھی جنگی مہارت کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ سپہ سالار کی نگاہ میں اس کی عظمت دوبالا ہوگئی۔ مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور دریا عبور کرنے کے بعد چین کی جانب اسلامی فوجوں کے لیے راستہ کھل گیا۔سپہ سالار نے اپنے غلام فروخ کی بہادری سے متاثر ہو کر اسے آزاد کردیا اور اپنے حصے کے تمام اموال غنیمت بطور انعام دے کر اس کی عزت افزائی کی۔ اس کے دو سال بعد ہی ربیع حارثی اپنے رب سے جا ملے۔ جانباز مجاہد فروخ اموال غنیمت کا ڈھیر لیے مدینہ پہنچا تو اس وقت وہ زندگی کی تیس بہاریں دیکھ چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ اب ایک گھر بنا لینا چاہیے۔ چنانچہ گھر خرید کر ایک خاتون سے شادی کر لی۔ مگر مجاہدانہ زندگی فروخ کی عادت بن چکی تھی۔ گھر میں بے کار پڑا رہنا اسے راس نہ آیا۔ اس دوران خراسان کے محاذ پر اسلامی لشکر کو کمک کی ضرورت پڑی تو حکومت وقت نے جہاد میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ فروخ نے جھٹ فیصلہ کیا۔ ان دنوں مجاہدوں کے اہل و عیال کی ذمہ داری حکومت پر ہوتی تھی اور پورا لشکر صرف اور صرف حکومت ہی کی سرکردگی میں تیار ہوتا تھا۔ محض اپنی مرضی سے "پرائیویٹ جہاد" کا کوئی تصور نہ تھا۔ مگر پھر بھی بیوی بچوں اور گھر بار کو چھوڑنا بڑے دل گردے کا کام ہوتا تھا۔ چناںچہ فروخ نے اپنی نئی نویلی دلہن کو تسلی دی اور اسے ایک تھیلی دیتے ہوئے کہا: "دیکھو! اس میں تیس ہزار دینار ہیں۔ یہ حکومت نے مجھے خرچ کے لیے دیے ہیں۔ ان کو کسی نفع بخش تجارت میں لگا دینا۔ اسی سے اپنے اخراجات بھی پورے کرنا اور بچے کی پرورش اور تربیت کا انتظام بھی کرنا۔ حتی کہ میں جہاد سے واپس آجاؤں یا پھر اللہ میری تمنائے شہادت پوری کر دے۔"




     جہاد پر روانگی کے چھ ماہ بعد فروخ کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا۔ بچہ اتنا خوب صورت تھا کہ اس کو دیکھ کر ماں شوہر کی جدائی کا سارا غم بھول گئی۔ ماں نے بچے کا نام ربیعہ رکھا اور اسے لائق اساتذہ کی نگرانی میں دے دیا۔ بہت تھوڑے ہی دنوں میں بچے نے مکمل قرآن حفظ کر لیا اور احادیث کا بھی خاصا ذخیرہ یاد کر لیا۔ ماں جب بھی بچے کی علمی قابلیت میں ترقی دیکھتی، اس کے اساتذہ کے انعام و اکرام میں اضافہ کر دیتی۔ وہ چاہتی تھی کہ بچہ ایسا تعلیم یافتہ اور با اخلاق ہو جائے کہ باپ اگر دیکھے تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں۔ لیکن ایک مدت گزر گئی اور فروخ کی کوئی صحیح خبر اس کو نہ ملی۔اس کے بیٹے نے خدمت علم ہی کو اپنا مقصد زندگی بنا لیا۔ چنانچہ وہ مسجد نبوی کی علمی مجالس میں شریک ہونے لگا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم میں اس وقت سب سے معزز و محترم شخصیت حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک کی تھی جو رسولۖ اللہ کے خادم خاص رہے تھے۔ صحابہ کے بعد تابعین میں سے وہ سعید بن مسیب جیسے علماء کے درس سے بطور خاص منسلک ہوگیا۔ تعلیم میں اس کی بے انتہا محنت سے اس کی شہرت عام ہوگئی۔ اب شاگردوں کی ایک بھیڑ اس کے گرد اکٹھی ہوگئی تھی۔اچانک بالا خانے کی کھڑکی سے ایک نسوانی آواز بلند ہوئی۔"انھیں چھوڑ دو بیٹا! انھیں چھوڑ دو۔"یہ گھر کے مالک کی ماں کی آواز تھی جو شور سن کر نیند سے بیدار ہو چکی تھیں۔ ماں کی آواز سن کر بیٹا نرم پڑ گیا۔ اتنے میں اس کی ماں نیچے اتر آئی اور کہا:"بیٹے! یہ تمھارے والد محترم ہیں اور اے ابو عبدالرحمان، یہ تمھارا بیٹا ربیعہ ہے۔" یہ سنتے ہی دونوں گلے مل گئے۔ ربیعہ نے باپ کے ہاتھ اور پیشانی چومی اور باپ کی محبت بیٹے پر نچھاور ہونے لگی۔

      فروخ تیس سال کے بعد آج اپنے گھر آیا تھا۔ وہ اپنی مجاہدانہ سرگزشت سنانے کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی کے حالات بھی پوچھتا رہا اور پھر مستقبل کا منصوبہ سوچنے لگا۔ربیعہ کی ماں، دیکھو میرے پاس اس وقت چالیس ہزار دینار ہیں اور جو تیس ہزار دینار میں تمھیں دے گیا تھا، ان میں سے جو کچھ بچت ہے، اسے ان میں شامل کر لو تو اس سے ہم کچھ قابل کاشت رقبہ اور باغ خرید لیں گے تاکہ گزر بسر کا سہارا بن جائے۔بیوی نے اس بات کو ٹال دیا۔ خوشی کے اس موقع پر اسے یہی فکر کھائے جا رہی تھی کہ شوہر نے جو تیس ہزار دینار اس کے حوالے کیے تھے، وہ سب بچے کی تعلیم و تربیت پر خرچ ہوگئے۔ اب اگر شوہر کو یہ بات بتائی گئی تو کیا وہ یقین کر لے گا کہ اتنی بڑی رقم بچے کی تعلیم و تربیت ہی پر خرچ ہوگئی۔ کیا وہ یہ بات مان لے گا کہ اس کا بیٹا بہت زیادہ فراخ دل ہے۔ وہ ایک درہم بھی بچا کر نہیں رکھتا۔ مدینہ کے لوگ جانتے ہیں کہ وہ اپنے دوست احباب اور مستحق لوگوں پر کتنا زیادہ خرچ کرتا ہے۔ ربیعہ کی ماں انھی خیالات میں پیچ و تاب کھا رہی تھی کہ اس کے شوہر نے دوبارہ کہا:"جو دینار بچے ہوئے ہیں، وہ لاؤ۔ پھر دیکھیں گے کہ کل ملا کر کتنی رقم بنتی ہے۔""آپ فکر مند نہ ہوں۔" بیوی نے اسے ٹالتے ہوئے کہا۔ "میں نے وہ تمام دینار وہیں رکھے ہیں جہاں رکھنے چاہیے۔ جلد ہی ان شاء اللہ وہ آپ کے سامنے آجائیں گے۔ آپ تھکے ہوئے ہیں، اب آرام کریں۔"تھکے ماندے فروخ کو ایسی نیند آئی کہ صبح کو خبر لی۔

      بیدار ہونے پر وضو کیا اور دروازے سے نکلتے ہوئے اپنی بیوی سے پوچھا: "ربیعہ کہاں ہے؟""وہ اذان سنتے ہی مسجد پہنچ جاتا ہے۔" بیوی نے کہا۔ "آپ کو کچھ دیر ہوگئی ہے اب شاید ہی جماعت آپ کو مل سکے۔"فروخ مسجد پہنچا تو جماعت ہو چکی تھی۔ اس نے تنہا نماز ادا کی۔ فارغ ہو کر جب مسجد سے لوٹنے لگا تو دیکھا کہ پوری مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی ہے۔ طالبان علم کاایسا با وقار اجتماع اس کی آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ دور بیٹھے ایک شیخ کے گرد لوگ حلقہ بنا کر با ادب بیٹھے ہوئے تھے۔ مجمع اتنا تھا کہ مسجد میں کوئی جگہ خالی نہ تھی۔ فروخ نے مجمع پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ حلقہ درس میں عمر رسیدہ علماء بھی شامل ہیں اور نوجوان طلبہ بھی۔ سب کی نگاہیں شیخ پر ہیں جو لفظ بھی ان کی زبان سے نکلتا ہے، موتی کی طرح اس کو چن لیتے ہیں اور لکھ کر محفوظ کر لیتے ہیں۔ شیخ جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں، مجمع میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھڑے کچھ لوگ ان کی بات کے لفظ لفظ کو بلند آواز سے دہراتے ہیں تاکہ ہر شخص ان کی بات کو پورے طور پر صحیح صحیح لکھ سکے۔فروخ مجمع کے کنارے پر تھا۔ اس نے بڑی کوشش کی لیکن فاصلے کی وجہ سے وہ شیخ کو پہچان نہ سکا۔ وہ ان کی لیاقت و قابلیت سے حددرجہ متاثر ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد درس ختم ہوگیا۔ شیخ کھڑے ہوئے تو سارے لوگ ان کے پیچھے پیچھے مسجد کے دروازے تک آئے۔ شیخ کا اتنا ادب و احترام دیکھا تو فروخ سے نہ رہا گیا۔ اس نے ایک آدمی سے پوچھا: "مجھے بتایئے کہ یہ شیخ کون ہیں؟""اس آدمی نے فروخ کو اوپر سے لے کر نیچے تک حیرانی سے دیکھا اور کہا: "آپ ان کو نہیں جانتے، بڑی حیرت کی بات ہے! کیا آپ مدینہ کے باشندے نہیں ہیں؟""بھائی میں مدینہ ہی کا باشندہ ہوں۔" فروخ نے کہا۔"بھلا مدینہ میں کوئی ایسا آدمی بھی ہو سکتا ہے جو شیخ کو نہ جانتا ہو؟" "معاف کیجئے، میں واقعی نہیں جانتا۔""آپ بیٹھئے! میں بتاتا ہوں۔" اس آدمی نے فروخ کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "دیکھئے، یہ شیخ "تابعی" ہیں۔ عالم اسلام کی شان و شوکت کے امین، فقہائے مدینہ کی آبرو، مدینہ کے محدث اور امام ہیں، گو عمر میں ابھی نوجوان ہیں۔""ما شاء اللہ!" فروخ نے بے ساختہ کہا۔"ان کی مجلس میں مالک بن انس، ابو حنیفہ النعان، یحیی بن سعید انصاری، سفیان ثوری، عبدالرحمان اوزاعی، لیث بن سعد جیسے علماء و فقہا بھی شامل ہوتے ہیں۔اہل مدینہ میں ان سے بڑھ کرکوئی سخی، خوش اخلاق اور با کردار نہیں۔"

   "لیکن ان کا نام آپ نے نہیں بتایا۔" فروخ نے بے تابی سے پوچھا۔"ان کا نام ربیعہ الرائے ہے۔""ربیعہ الرائے؟" فروخ نے دوبارہ پوچھا۔"ہاں، ربیعہ ہی ان کا نام ہے۔ لیکن مدینہ کے عالم ان کو "ربیعہ الرائے" ہی کہتے ہیں کیونکہ علماء کسی دینی مسئلے کو سلجھا نہ پا رہے ہوں تو انھی کے پاس جاتے ہیں اور مطمئن ہو کر واپس آتے ہیں!""آپ نے ان کے والد کا نام نہیں بتایا۔" فروخ نے بے تابی سے کہا۔"ربیعہ بن فروخ۔ شیخ جب پیدا ہوئے تو ان کے والد جہاد میں گئے ہوئے تھے۔ ان کی ماں نے ان کی تعلیم و تربیت کا فرض انجام دیا۔ اہل مدینہ ایسی ماں پر فخر کرتے ہیں۔ میں نے نماز سے کچھ پہلے سنا ہے کہ ان کے والد "فروخ" تیس برسوں کے بعد رات ہی گھر واپس آ گئے ہیں۔"فروخ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ وہ مزید کچھ پوچھے بغیر گھر چل دیے۔ بیوی نے شوہر کو نم آلود پلکوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوتے دیکھا تو پوچھا: "کیا ہوا آپ کو میرے سرتاج! خیریت تو ہے؟""واللہ! میں نے اپنے بیٹے کا جو مرتبہ و مقام دیکھا، وہ آج تک کسی کا نہیں دیکھا۔"بیوی نے موقع غنیمت جان کر فوراً کہا: "آپ بتایئے، دونوں میں سے آپ کو کون زیادہ عزیز ہے؟ بیٹے کا یہ مقام و مرتبہ یا تیس ہزار دینار؟""اللہ کی قسم اس علم و کردارکے آگے تو ساری دنیا ہیچ ہے۔" فروخ نے کہا۔"یہ تیس ہزار دینار میں نے اسی علم و کردار کی بلندی تک بیٹے کو پہچانے کے لیے خرچ کر دیے۔ بتایئے اللہ کے ساتھ کی ہوئی اس تجارت پرآپ خوش ہیں یا نہیں؟""اللہ تمھیں جزائے خیر سے نوازے۔ تم نے مجھے وہ خوشی دی جس پر ہر خوشی قربان۔ ایسی تجارت میں سرمایہ کھپایا جس سے نفع بخش تجارت کوئی نہیں۔" فروخ نے جذبات سے رندھی آواز میں کہا۔