Saturday, September 06, 2014

نیرنگ: فوک وزڈم

نیرنگ: فوک وزڈم


   یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ایف ایس سی میں تھا - ہم لوگ مظفرآباد (آزاد کشمیر) میں رہتے تھے - بے فکری کے دن تھے - سکول کی بندشوں سے نئے نئے آزاد ہوکر ہم لوگ کالج کی کھلی فضاؤں میں محو پرواز تھے - اس زمانے میں ہم تین دوست ہوا کرتے تھے جن میں سے ایک کے اہل خانہ سیالکوٹ میں مقیم تھے لہٰذا اسکا گھر ہمارا فطری ٹھکانا ہوتا تھا

    اس دوست کے والد (الله انہیں جنت نصیب فرمائے) اس وقت ایک اعلیٰ سرکاری عہدے پر تھے انکی عمومی شہرت ایک انتہائی سخت گیر افسر اور انسان کی تھی ہمارے دوست کے ہاں ایک کافی پرانے اور عمررسیدہ ملازم تھے جنکا نام زمان تھا اور انہیں صوفی زمان کے نام سے جانا جاتا تھا - ہم لوگ انہیں زمان پاء جی کہا کرتے تھے- وہ دور بھی کچھ اچھا تھا اورعمر رسیدہ اور پرانے ملازمین کی عزت ظاہراً ہی نہیں بلکہ دلی طور پر کی جاتی تھی اور انہیں گھر کے ایک فرد کی حیثیت ہی دی جاتی تھی - زمان پاء جی ہمارے ساتھ بڑے بے تکلف تھے - دیہاتی پس منظر کا ہونے کی وجہ سے زمان پاء جی کی طبیعت میں صاف گوئی اور اکھڑ پن بھی بدرجہ اتم پایا جاتا تھا - انکے اکھڑ پن کا یہ عالم تھا کہ میرے دوست کے والد صاحب جن سے بحث یا اختلاف کا انکے ماتحت تو کیا ہم منصب بھی تصور نہیں کرسکتے تھے زمان پاء جی ان سے بھی وقتاً فوقتاً بحث اور اختلاف فرمایا کرتے تھے اور زیرعتاب آنے سے بھی بچ جایا کرتے تھے

   جوانی کے فطری تقاضوں کے پیش نظر ہمارے معمولات میں گاڑیوں میں بے مقصد گھومنا بھی ہوتا تھا جو اتنا  بے مقصد بھی نہیں تھا بلکہ ایک خاص مشن جسے عرف عام میں "پونڈی" کے طور پر جانا جاتا ہے کے تحت ہوتا تھا - اس زمانے کے مظفر آباد میں صرف دو ہی قابل ذکر جگہیں ایسی تھیں جہاں یہ مقصد حاصل کیا جاسکتا تھا جن میں سے ایک شہر کا اکلوتا گرلز ڈگری کالج جسکے ساتھ ہی گرلز ہائی سکول متصل تھا اور دوسرا شہر کی واحد زنانہ مارکیٹ یعنی مدینہ مارکیٹ تھی - سو عمومی طور پر ہمارے روٹ میں یہ دونوں مقامات شامل ہوتے تھے - اکثر بازار سے سودا سلف وغیرہ لانے کے لئے زمان پاء جی بھی ہمارے ساتھ ہی گاڑی میں ہوتے اور بظاہر غیر متعلق نظر آتے ہوئے بھی ہم پر نظر رکھے ہوتے

  ایک دن ہم دوست کے گھر بیٹھے ہوئے تھے زمان پاء جی حسب معمول ہمارے لئے چائے لیکر آئے اور حسب عادت باتوں میں حصہ بھی لینا شروع کر دیا - باتوں باتوں میں زمان پاء جی اپنی پہاڑی زبان میں کہنے لگے "یرا تساں کو میں ایک بات سناواں؟" ہم نے کہا جی ضرور
اب جو قصہ انہوں نے سنایا میں اسے اردو میں سینسر کر کے سناتا ہوں

   ایک پہاڑی بکری چراگاہ پہنچی جہاں ایک گیدڑ کا بچہ جو بہت دیر سے بھوکا تھا، پہلے سے موجود تھا - بکری نے چرنا شروع کردیا - گیدڑ کا بچہ جس نے پہلی دفعہ پہاڑی بکری دیکھیتھی اسے پوری بکری میں سے جو چیز قابل توجہ نظر آئی وہ بکری کے لٹکتے ہوئے تھن تھے - اس نے پہلی بار ایسی چیز دیکھی تھی - اسے بھوک بھی بہت لگی ہوئی تھی اسے لگا کہ یہ ٹوٹ کرابھی نیچے گر جائیں گے اور میں انہیں کھا لونگا کیونکہ بکری کی جسامت کے پیش نظر اس پر حملہ تو ممکن نہیں - بکری اپنی دھن میں چرتی رہی اور گیدڑ بھوکے پیٹ نرم گلابی گوشت کے خوابوں میں مست پیچھے پیچھے چلتا رہا - ہوتے ہوتے شام ہوگئی بکری نے اپنی راہ لی اور گیدڑ نڈھال ہوکر وہیں گر گیا

   تم لوگوں کی مثال بھی اس گیدڑ جیسی ہے کہ گاڑیوں میں پیچھے پیچھے پھرتے رہتے ہو ہر لڑکی آرام سے گھر چلی جاتی ہے اور تم تھک کے واپس اپنےگھر، ملنا ملانا کچھ بھی نہیں اور خواری الگ
اس وقت تو ہم نے زمان پاء جی کی بات سنی ان سنی کردی لیکن کچھ ہی عرصے میں اس کی بہت اچھی طرح سمجھ آگئی

   حالیہ دنوں میں میڈیا کی جنگ اور سیاسی جماعتوں کی پھرتیاں دیکھ کر نہ جانے کیوں زمان پاء جی کا سنایا ہوا قصہ یاد آ رہا ہے مگر ہماری طرح اس وقت یہ قصہ کسی کو سمجھ نہیں آئے گا اور جس وقت سمجھ آئیگا اس وقت اس کا کوئی خاص مصرف نہیں رہے گا 

نقطے سے نکتے تک : آزمائش اور استقامت

نقطے سے نکتے تک : آزمائش اور استقامت

    الله تعالیٰ نے بنی نوح انسان کے لیے جو انبیائے کرام مبعوث فرمائے ہیں انکا کام لوگوں کی حق کی طرف رہنمائی تھا ـ ظاهر ہے اتنا کھٹن کام بغیر تکلیف اور مشقت کے کیسے پایہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے ـ کم وبیش ہر نبی کو اس کی امت کی طرف سے مصائب اور پریشانیوں کا کوہ گراں عبور کرنا پڑتا تھا تب جاکر کہیں کچھ لوگ انکی دعوت پر لبیک کہتے تھے ـ الله تعالی نے ان میں سے پانچ اولوالعزم پیغمبروں کا تذکرہ بطور خاص کیا ہے ـ جن میں حضرت نوح علیہ السلام حضرت ابراهیم علیہ السلام حضرت موسی علیہ السلام حضرت عیسی علیہ سلام اور جناب محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے اسماء گرامی ہیں ـــ ان انبیاء کرام کے حالات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انکی آزمائشیں بہت ہی سخت تھیں ـ


    حضرت ابراهیم علیہ السلام کی آزمائشیں تو بہت زیادہ ہیں لیکن جس آزمائش پر آسمان کے فرشتے بھی رو پڑے تھے وہ آزمائش تھی اپنے محبوب لخت جگر سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنا کہ جس کو رب سے رو رو کر مانگا گیا تھا ـ لیکن قربان جاؤں خلیل الله کی وفا پر کہ اپنے رب کے حکم پر بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی ــ پھر رب نے صلہ بھی کیا خوب دیا فرمایا " انی جاعلک للناس اماما" آج یہودی بھی یہ دعوی کرتے ہیں کہ ابراهیم ہمارا ہے عیسائی بھی ابراهیم علیہ السلام کواپنا پیشوا تسلیم کرتے ہیں وہ الگ بات ہے کہ قرآن ان کے اس دعوے کی واشگاف الفاظ میں تردید کرتا ہے ـ" ما کان ابراهیم یہودیا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما "

    اگر اپنے اسلاف کی بات کی جائے تو ان میں امام احمد بن حنبل رح کی آزمائش اور استقامت خلق قرآن کے مسئلے پر ہے شاید ہی اسکی نظیر مل سکے ـ سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ امام صاحب کو قریبا اٹھائیس مہنیے تک قید میں رکھا گیا اور ایسی شدت کے کوڑے لگائے جاتے کہ اگر ویسا ایک کوڑا ہاتھی پر پڑتا تو چیخ مار کر بھاگتا مگر امام صاحب کی استقامت کو سلام ہےکہ جو کوڑے کھا کھا کر بے ہوش تو ہوجاتے مگر خلق قرآن کے عقیدے کا اقرار کرنا گوارا نہ کیا ـ حتی کہ امام بخاری رح کے استاد بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ " الله تعالی نے اس دین کے غلبہ اور حفاظت کا کام دو شخصوں سے لیا ہے کہ جن کا تیسرا ہمسر نظر نہیں آتا ـ

    ارتداد کے موقع پر صدیق اکبر رضی الله عنہ اور فتنہ خلق قرآن کے موقع پر احمد بن حنبل ــ امام صاحب کی حق گوئی اور استقامت کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ خلق قرآن کا فتنہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا دوسرا انکے جنازے کو دیکھ کر بیس ہزار غیر مسلم اسلام لے آئے تھے ـ روایات میں آتا ہے کہ قریبا آٹھ لاکھ لوگوں نے امام صاحب کی نماز جنازہ ادا کی ـ امام شافعی رح جیسے فقیہ نےانکی اس قمیص کو دھوکر پیا کہ جو کوڑے لگتے وقت امام صاحب کے جسم پر تھی ـ یہ ایک دو واقعات نمونے کے طور پر تھے ـ حق پر استقامت کا صلہ الله کی طرف سے ضرور داعیوں کو ملتا ہے ـ اور وہ لوگوں کی ھدایت کا زریعہ بنتے ہیں ـ ایک الله والے کا قول ہے کہ استقامت ہزار کرامتوں سے افضل ہے ـ ایک موقع پر الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے بھی اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان پر وہ آیت بھاری ہے کہ جس پر استقامت کا حکم دیا گیا ہے ـ الله تعالی ہم کو بھی حق پر استقامت نصیب فرمائے ـ آمین

!سنو بھی : ذرا کھل کر ' ذرا ہٹ کر


میرے دیس میں ان دنوں
شور بپا ہے چاروں طرف
' ہم بدلیں گے پاکستان '

نعرہ سب کا ایک سا ہے
سب سے بڑھ  کر نوجوان نسل آگے آگے دوڑ رہی ہے
اسلام کو تو چھوڑ رہی ہے اغیار سے سب کو جوڑ رہی ہے 

ان نوجوانوں کو کوئی بتائے
نہ لا سکا ہے انقلاب کوئی
چھوڑ کر اپنے اسلاف کی روش کو
اور جن کو سمجھتے ہو تم مسیحا
ان کا حال تو ذرا سن لو
اہل ہوس میں گرم ہے پھر جنگ اقتدار
شعلوں کی زد میں سارا گلستاں ہے دوستو

   وقت گزاری کے لئے لکھ رہا ہوں کیوں کہ جانتا ہوں میرے لفظوں میں وہ تاثیر نہیں کہ آپ لوگوں کے دلوں کو پھیر دے -  موضوع سیدھا سادہ سا ہے  انگریزی فلمیں   انگریزی گانے ' انڈین فلمیں  انڈین گانے ' پاکستانی فلمیں   پاکستانی گانے - نوجوان نسل بلخصوص طبقہ اشرفیہ ' اپر مڈل کلاس اور مڈل کلاس کی نوجوان نسل مکمل طور پر رسیا ہو چکی ان خرافات کی - اور اس دلدل سے نکلنا ہوا مشکل -

  میں آپ کے سامنے قرآن و حدیث بلکل نہیں پیش کروں گا - کیوں کہ اگر میں نے پیش کر دیا اور کسی کے ماتھے پر ذرا سی شکن بھی آ گئی تو اس کی پکڑ سخت ہو گی کیوں کہ ہم مسلمان تبھی کہلاتے ہیں جب قرآن و حدیث پر دل و جان سے کم از کم ایمان تو رکھیں ' عمل بعد کی بات - 

  اس لئے میں اک نئے انداز سے آپ تک پہنچاؤں گا اپنے دل کی آواز (سوز و غم بھی که سکتے ہیں )اک ہوتا ہے ہیرو اور اک ہوتی ہے ہیروئین ' مرکزی کردار کسی بھی فلم کے - ٩٩% فلموں میں عشق و محبت و پیار و الفت  وغیرہ ہی بنیادی اجزا ہوتے ہیں -  کردار و الفاظ بہت  سوچ سمجھ کر سلیکٹ کئے جاتے ہیں تا کہ ناظرین زیادہ سے زیادہ محظوظ ہو سکیں اور پھر گانے کے بول تو سونے پر سہاگے کا کام کرتے ہیں - اور گانے کے دوران کی حرکات و سکنات تو آسمان پر پہنچا دیتی ہیں ناظرین کو - 

  الله تعالیٰ نے مرد ذات میں شہوت کے مادے کو عورت ذات سے زیادہ قوی بنایا ہے - قدرتی طور پر مرد ذات  میں عورت ذات کی خواہش رکھ دی گئی - اسی لئے اس کی ایک مثال جو کہ بہت بری ہے وہ ہے زنا با لجبر ' یہ تبھی انسان کرتا ہے جب شہوت پر کنٹرول کھو دیتا ہے - باقی اس بات سے انکار نہیں کہ عورت میں شہوت ہوتی ہی نہیں ' بلکل موجود ہوتی ہے مگر اس پر کئی اور چیزیں غالب ہوتی ہیں - تفصیل کسی اور موقع پر ' ابھی موضوع پر واپس آتا ہوں - مختصرا میری قوم کے نوجوان اسی لئے فلمیں دیکھتے گانے سنتے ایسی محافل میں جاتے ایسی محافل سجاتے - فلموں میں سب سے پسندیدہ مناظر گانے کے دوران والے ہوتے ہیں - اور خاص کر وہ گانا جس میں لفظوں اور حرکات میں مطابقت پائی جاتی ہو -  اور میری قوم کے نوجوان لڑکوں کی نظریں ہیرو پر بہت کم اور ہیروئن پر بہت دیر جمی رہتی ہیں گانے کے دوران - 

   ظاہر ہے مرد ذات یا نوجوان لڑکا ' ہیروئن کو اسی لئے دیکھتا ہے کہ وہ خوبصورت ' وہ پر کشش ' اس کا نسوانی حسن ' اس کے مختصر ترین کپڑے' اس کا چھلکتا جسم   - اتنی منظر کشی کافی ہے - - اب یہاں پر خاص نقطہ یہ ہے کہ کیا وہ تمام حضرات اس ہیروئن کی جگہ اپنی بیوی ' بیٹی ' بہن یا ماں کو دیکھنا پسند کریں گے  ؟(کیا وہ لوگ یہ کام اپنی عورتوں کو کرنے کی اجازت دیں گے ؟؟ ( ہر ہفتے کسی اور کی باہوں میں دوسروں کی عورتوں کو دیکھ کر خوش ہونے والے ' لذت اٹھانے والے ' محظوظ ہونے والے ' آنکھوں کی ٹھنڈک پانے والے  کیوں نہیں  اپنے گھر والوں کو ویسا کرنے دیتے ؟ 

  اب آتے ہیں نوجوان لڑکیوں کی سوچ کی طرف ' میرے خیال سے نوجوان لڑکیاں ہیرو پر زیادہ نظریں مرکوز کرتی ہوں گی ( میرا خیال غلط بھی ہو سکتا ہے) مگر یہاں اک بات اچھی ہے کہ ہیرو کے زیادہ تر کپڑے پورے ہی ہوتے ' ستر چھپا ہی ہوتا  سو لڑکیاں ' لڑکوں کی نسبت کم گناہ لکھوا پاتیں اب ذرا یہ مسلم لڑکیاں ہیروئن کی جگہ خود کو رکھیں اور سوچیں  کہ ہر ہفتے اک نیا غیر مرد آپ کے ساتھ ہو اور پوری دنیا آپ کو دیکھے (ہیروئن ہوتی نا آپ ) - پھر وہ تمام مناظر سوچیں ذرا آپ کہ آپ کے ساتھ ہیرو بھی وہی کچھ کر رہا ہو - - میں تو صرف لکھ رہا ہوں ہو سکتا ہے آپ کا پارہ چڑھ رہا ہو کہ کیا بکواس کر رہا ہوں - مگر مجبورا آپ سب خواتین و حضرات کو ماننا پڑے گا کہ میں غلط کچھ بھی نہیں که رہا -
  
  فلمیں دیکھنے اور گانے سننے کا رائی کے دانے کے برابر بھی مثبت احتمال نہیں نکالا جا سکتا نہیں بتایا جا سکتا -
بحثیت اک کمزور ترین درجے والا مسلمان ہو کر بھی ہم سب میں سے کوئی بھی فلمیں دیکھنے اور گانے سننے کا دفاع نہیں کر سکتا -  اگر اسلامی نقطہ نظر کو سائیڈ پر رکھ کر اوپر بیان کئے گئے سوالات کے جوابات آپ میں سے کوئی دے سکتا ہے تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اپنا عمل دکھا دے  کہ یہ دیکھو میرے گھر کی عورتیں یہ یہ کر رہیں ' اور اگر لڑکیاں جواب دینا چاہیں تو وہ بھی اپنے ہر ہفتے کے ہیرو کا نام بتا دیں - 

 فلمیں اور گانے چاہے وقت گزاری کے لئے دیکھیں اور سنیں مگر اثر ضرور ہو گا - وہ اثر جو کہ آپ خود نہیں چاہتے کہ ہو اصل میں مگر ذرا ان پہلوؤں پر غور کریں شائد کہ آپ تبدیلی لانے کے قابل ہو جائیں -

بات ختم کرتا ہوں اقبال کے اس شعر کے ساتھ 
چاہتے سب ہيں کہ ہوں اوج ثريا پہ مقيم
پہلے ويسا کوئي پيدا تو کرے قلب سليم




خوشی کا اُصول


 خوشی کا اُصول


     اس پوسٹ سے قبل میں ایک بلاگ پوسٹ لکھ چُکی ہوں جس کا موضوع خوشی اور ٹایئٹل "خوشی کا راز " تھا۔ آج جو پیشِ خدمت ہے اسکا نام ہے" خوشی کا اُصول" اب آپ سوچیں گے کہ خوشی کے اُصول اور خوشی کے راز میں کیا فرق ہوگیا؟عقلمند ویسے ایسا نہیں سوچیں گے کیونکہ راز اور اُصول میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ خوشی کے ناکام راز آپ کے سامنے پہلے ہی فاش ہوچکے ہیں اب آپ کو خوشی کے لاگو اْصولوں کا سامنا کروانے کی سعی کرتے ہیں.
  خوشی کا کیا اُصول ہوتا ہے؟

    پہلے دادی اور پھر اپنے پاپا سے کہانیاں سُننے کا شوق بچپن میں میرے سر پر سوار تھا کہانیاں جو لوک داستانوں کی شکل میں ہوتی ہیں یا بادشاہوں کی کہانیاں اپنے اندر بہت گہرے راز سموئے ہوئے ہیں۔ بچپن میں دہرائی جانے والی ان کہانیوں میں ایک ایسے قصے کا بھی ذکر تھا جس کے اندر خوشی کا اُصول بیان ہوا ہے یہ ایک جابر اُصول تھا مگر کسی نہ کسی صورت میں اُصول سارے ہی جابر ہوتے ہیں۔ کہانی میں ایک ایسی ریاست کا ذکر ہے جس کے بادشاہ کا ایک ہی اُصول ہے کہ رعایا کو جیسی بھی حالت میں رکھا جائے مگر بادشاہ اُن سے روز رات کو ایک سوال ضرور پوچھے گا کہ "خوش ہو؟" اور سب نے ہاں میں ہی جواب دینا ہے کوئی بھی "نہ" میں جواب نہیں دے سکتا۔ نفی میں جواب دینے والے کو سخت سے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا ، اب بادشاہ کی ریاست میں رعایا کو دن رات کام کروایا جاتا ہے پورے دن کی مزدوری کے بعد کھانے کو ایک سوکھی روٹی اور دال دی جاتی اور پھر رات کو جب بادشاہ سلامت پوچھتے کہ "خوش ہو؟" تو سب یہی جواب دیتے کہ خوش ہیں اس ایک اُصول کی کوئی خلاف ورزی نہیں کرسکتا تھا پھر کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایک انتہائی چالاک لڑکا بادشاہ سے بدلا لیتا ہے اور اس کا جینا محال کردیتا ہے اور ہر بار سوال پوچھتا ہے کہ "بادشاہ سلامت خوش ہیں؟" کیونکہ اُصول بادشاہ پر بھی لاگو ہوتا تھا، ریاست جیسی بھی تھی استثنیٰ سے عاری نہیں تھی تو بیچارے بادشاہ کو اپنا سب کچھ لُٹا کر بھی جواب دینا پڑتا کہ ہاں خوش ہوں، یہ پنجاب کی ایک مشہور کہانی یا قصہ ہے جو دادیاں نانیاں سُناتی ہیں میری دادی نے ہی میرے پاپا کو سُنائی پھر وہ آگے پھیلائی گئی مگر اس کہانی میں کیا سبق چُھپا ہے؟؟ تو وہ ہے خوشی کا اُصول ۔ کیا ایسا خوشی کا اُصول ہوتا ہے؟ بس دیکھ لیں۔

        ہمارے گھر بھی ایک ریاست ہیں جہاں سارے گھر کی مالکن اور بادشاہ "ماں " ہوتی ہے اور ہماری عموماً سب مایئں اِسی اُصول کو اپنے لاشعور میں سمو کر اپنی اس ریاست کے امور سرانجام دے رہی ہیں ہم سب کے گھروں کا صرف ایک اُصول ہے  بادشاہ ماں ہے جس نے بغیر الفاظ کے یہ سوال پوچھتے  رہنا ہے کہ "خوش ہو؟" اور رعایا یعنی بچوں نے یہی جواب دینا ہے کہ "ہاں خوش ہیں" نہیں کہنے کا یہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا "نہیں" کہنے کی صورت میں کیا ہوتا ہے؟ مجھے نہیں معلوم سزا کس حد کی ہوتی ہوگی، کہاں تک ہوتی ہوگی یا ہوتی بھی ہو کہ یا نہیں مگر یہ روایت ہی نہیں ہے کہ انکار کیا جائے "نہیں" کا کوئی جواز نہیں ہے،ماں کیسی بھی پڑھی لکھی ہو یا ان پڑھ ، مڈل کلاس ہو یا اپر مڈل کلاس سب کی ریاست کا ایک ہی اُصول ہے "خوش ہو" "ہاں جی خوش ہیں " جو ملے خوش ہو ، نہیں ملا خوش ہو ، ماں کبھی "نہیں خوش ہوں" نہیں سُنتی اور کبھی یہ سوال پوچھتی بھی نہیں ہے کہ خوش ہو یا نہیں مگر بہانوں بہانوں میں اس کا جواب مانگتی رہتی ہے ، کوئی بھی گلہ شکوہ سُننے سے انکاری ماں ہمیشہ بچوں کو خوش ہی ماننا چاہتی ہے ، یہ خدانخواستہ کوئی برائی نہیں ہے جو یہاں بیان کی جارہی ہے نہ ہی اس کا تعلق ماں جیسی عظیم ہستی کے احسانات و محبت سے انکار ہے یہ محض رویوں کی بات ہے اور اس بات کے ایمان کی کہ میرے بچے خوش ہیں ، اب چاہے وہ خوش نہیں ہیں مگر پھر بھی وہ اس بات کا ایمان کبھی نہیں ٹوٹنے دیتیں کہ میرا بچہ خوش ہے ۔اسکا تعلق صنفی تفریق سے بھی نہیں ہے بیٹا ہو یا بیٹی ماں اِس اُصول کا استعمال دونوں پر ہی برابری سے کرتی ہے اور کبھی اس اُصول میں تفریق نہیں برتتی ، میں نے ماؤں کو اپنے بچوں کے لئے مانگتے دیکھا ، کبھی اُن کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش کے لئے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوئے دیکھا،کبھی اپنے بچے کے علاج کے لئے زاروقطار  روتے ہوئے دیکھا ہے ، دوسروں سے اپنے بچوں کی خاطر لڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے مگر جب بات بچے اور ماں کے درمیان کے تعلق پر آتی ہے ماں فوراً وہ بادشاہ بن جاتی ہے جسکو اپنے بچے کی "ہاں" ہی سُننی ہے ، میں نے پچھلے دنوں کچھ لوگوں کو بہت عجیب گفتگو کرتے سُنا وہ کہہ رہے تھے کہ "ماں اور خدا کے سوا کوئی انسان کے شکوے نہیں سُنتا" خدا سے شکوے کرنے کو لوگ ناشُکری قرار دیتے ہیں اور ایسی بھی  "ماں" ہے بھئی جو شکوہ سُن لیتی ہے؟ ہماری تو نہیں سُنتی یہ مزاق نہیں ہے ہماری ماؤں کا یہ ایمان ہے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ تم خوش نہ ہو ، شائد یہ اُصول بھی ماں نے خدا سے ہی سیکھا ہے خدا بھی بندے کو کبھی گراتا ہے کبھی اُٹھاتا ہے کبھی نواز دیتا ہے کبھی چھین لیتا ہے مگر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں خوش نہیں ہوں ، خدا کا حکم ہے کہ ہر حال میں خوش رہنا ہے یہی خوشی کا اُصول ہوتا ہے یہی ماں کا اُصول ہوتا ہے ہماری ماؤں کے لئے ہم دنیا کے خوش و خرم انسان ہیں کیونکہ اُنہوں نے جب بھی پوچھنا ہے تم خوش ہو تو "ہاں خوش ہیں" ہی جواب دینا ہے ، یہ اُصول بھی ماں بادشاہ کا اپنا بنایا ہوا ہے اور وہ لوگ جن کی ماں "نہیں خوش ہوں " سُن لیتے ہیں وہ بھی خوش قسمت انسان ہیں یہ بھی ماں کی محبت کا ایک طور ہوتا ہوگااُس کی سہہ جانے کی ایک صلاحیت ہوتی ہوگی  مگر شاید وہ اُصول سے آزاد ہوں گے خوشی کے اُصول سے آزاد ۔یہ خوشی کا اُصول جو یہاں لاگو ہے یہ ماں نے آپکو زندگی کی شاید ایک پریکٹیس کروانی ہوتی ہے تسلیم و رضا سیکھانی ہوتی ہے کہ خدا کسی بھی حال میں رکھے جواب "خوش ہوں " ہی دینا ہے۔

Friday, September 05, 2014

ذوقِ طلب

                      

                                    




  میری طلب کسی اور سے نہیں، اپنے آپ سے کرنا! مجھے کسی اور کے پاس نہیں، اپنے ہی پاس ڈھونڈنا! میں تمہیں وہاں مل جاؤں تو ٹھیک ورنہ اور کہیں نہ ملوں گا! کسی کے پاس کیوں جاؤ؟ تمہارے سب سے قریب میں ہی ہوں، تمہیں میں وہاں نہیں ملا تو بغور دیکھو کوئی خلل تمہارے ہی اندر یا کہیں آس پاس ہوگا! ’دور‘ جانا عبث ہے!!!

        وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لِي وَلْيُؤْمِنُواْ بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ !!!

     ’گھر‘ خالی کر لو، میں آبسوں گا!!!    قسمت والے ’قربت‘ کا جو لطف لیتے ہیں، اگر کہیں تم اس کا اندازہ کر لو تو اپنی اِس ’دوری‘ پہ تمہارے یہاں ماتم کی صفیں بچھ جائیں!!!
      جس کو راستہ طویل لگے، اس کے قدم آہستہ ہو ہی جاتے ہیں!!!
      ’معرفت‘ وہ بساط ہے جس پر ’منظورِ نظر‘ لوگوں کے سوا کسی کو پیر دھرنے کی اجازت نہیں!
        ’محبت‘ وہ نغمہ ہے جس پر وہی دل طرب میں آئے گا جو ہر دوسرے نغمے سے اچاٹ ہوچکا! ’محبت‘ ایک میٹھا لذیذ چشمہ ہے جس کے چاروں طرف تپتا صحرا ہے اور جس کی نشان دہی کیلئے ’بنی بنائی‘ پگڈنڈیاں نہیں پائی جاتیں! یہی وجہ تو ہے کہ اس تک کوئی کوئی پہنچتا ہے، البتہ ’طلبگار‘ اس تک پہنچے بغیر نہیں رہتے اور نہ کبھی اس کا راستہ بھولتے ہیں!
      سبحان اللہ! جنت کی دلہن ’رشتے‘ کیلئے آنے والوں کی راہ میں سج کر بیٹھی، اور تو نے دیکھا ذوق والے اس کی مانگ بھرنے کیلئے ’مِہر‘ کا بندوبست کرتے بھاگے پھرتے ہیں.... خدائے رب العزت اپنے اسماءوصفات کی راہ سے قلوب پر جلو گر ہوا اور قسمت والے اُس کی طلب میں رات دن ایک کر چکے.... اور تو سدا کا بدبخت، جس نے اِس ’مردار‘ سے ہی فرصت نہ پائی!!!
      ’عبادت‘ کرنے والے کو شجرِ ’طوبیٰ ‘ کے تلے دم لینے سے پہلے آرام کہاں!؟ چشم تصور سے اپنے آپ کو اس کی چھاؤں میں ٹھاٹھ سے مجلسیں کرتا ہوا دیکھو، یہ سب محنت آپ سے آپ آسان ہوجائے گی! طالبِ صادق کو ’یوم المزید‘ سے پہلے قرار کہاں!؟ ذرا اس دن کا منظر اپنے سامنے لاؤ، اس کیلئے آج جو کچھ کر رہے ہو، نہایت بھلا لگنے لگے گا!     امام احمد سے پوچھا گیا: مومن کو آخر آرام بھی کبھی دیکھنے کو ملے گا؟        فرمایا: ہاں، جب جنت میں پہلا قدم دھر لےگا!

     اس مختصر زندگانی میں اُس کی جانب یک رخ رہو، مابعد الموت کے اربوں کھربوں سال وہ تمہیں کفایت کرتارہے گا!

    بہشت کی روحیں بڑی ہی عجیب نکلیں۔ قلوب کی سواریوں پر وہ سامان لادا کہ الامان والحفیظ! گویا دنیا خالی کر کے رکھ دیں گے! لاکھ فرمائشیں ہوئیں کہ راستے میں ذرا سامان کھولو تو۔ پر نہیں مانے۔ جواب دیا سامان بادشاہ کا ہے بادشاہ کے پاس جا کر کھلے گا! یہ قافلے چلے جاتے دیکھنا ہوں تو کبھی ان کو سحر کے وقت دیکھو! نسیمِ سحر شاید انہی کی راہ دیکھنے نکلتی ہے! دشتِ ہویٰ کو اقدامِ عزم سے یوں خوشی خوشی پار کر گئے کہ پتہ ہی نہ چلا! زیادہ نہیں چلنا پڑا، کہ کیا دیکھتے ہیں، واہ! منزل آگئی!!! شہرِ وصل میں پہنچے تو انعامِ ابد سامنے تھا!!! خلد کی راحت نے دور ہی سے استقبال کیلئے بازو پھیلا دیے!!!

     بادشاہ نے ہیرے جواہرات کے بے پناہ خزانے کسی بیابان میں رکھ چھوڑے ہیں، اور کسی کو ان کی خبر نہیں سوائے بادشاہ کے اپنے خاص لوگوں کے۔ ان خزانوں کا سراغ لگانا چاہو، تو بغور دیکھنا بادشاہ کے یہ خواص اور مقرب آدھی رات کو اٹھ کر بھلا کہاں جاتے ہیں! ان کے پیچھے پیچھے چل دو، تو بھی کچھ حرج نہیں!!!
         خزانوں کی کوئی حد تھوڑی ہے!!! 

   پہرہ داروں کیلئے شب بیداری کوئی بات نہ رہی؛ کہ جانتے ہیں ان کی ’جاگتے رہو‘ کی آوازیں بادشاہ تک جاتی ہیں!

     سلمہ بن دینارؒ کہتے ہیں:
         جو چیز تمہیں پسند ہے کہ وہ آخرت میں تمہارے ساتھ ہو اُس کو ابھی سے بُک کروا دو۔ ایسا نہ ہو تم چلے جاؤ اور یہ پیچھے رہ جائے! جس چیز کے آخرت میں تمہارے پاس پائے جانے سے تمہاری جان جاتی ہے اس سے آج ہی جان چھڑا لو۔ ایسا نہ ہو کہ جانے لگو تو سامان میں ساتھ ہی چلی جائے!(ماخوذ از الفوائد، مؤلفہ ابن قیم)

نفع بخش تجارت



      غروب آفتاب کے بعد جوں جوں تاریکی بڑھ رہی تھی، اس کے ساتھ ساتھ چاند بھی آسمان پر بلند ہو رہا تھا۔ نخلستانوں کے درمیان سے گزرنے والی سڑک جو مدینے کی طرف جاتی تھی، اب سنسان ہو چکی تھی۔ دور سے سرپٹ گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز اس سناٹے میں ہلکا ہلکا سا لرزہ پیدا کر رہی تھی۔ کھجور کے درختوں کے درمیان سے چھن کر آنے والی چاندنی بار بار گھڑ سوار کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ وہ کوئی ساٹھ سال کی عمر کا مضبوط جسم کا چاک و چوبند آدمی دکھائی دیتا تھا۔ لمبی مسافت کی تھکن اس کے چہرے پر ظاہر تھی۔ منزل کے قریب ہونے کی وجہ سے سوار نے اس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دی تھیں۔ رفتہ رفتہ باغات کے درمیان اکا دکا مکانات اور حویلیاں بھی ابھرنے لگیں تھیں۔ حتی کہ وہ شہر میں داخل ہوگیا۔





    وہ گزرنے والی ہر گلی اور مکان کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا، جیسے کسی مکان کو تلاش کر رہا ہو۔ کبھی کسی مکان کے قریب گھوڑے کو روکتا لیکن پھر آگے چلنے کے لیے اس کی لگام ہلا دیتا۔ بازاروں اور چوراہوں میں آدمیوں کی آمدورفت ابھی جاری تھی۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی اسے پہچانتا نہ تھا۔اب وہ گھوڑے سے نیچے اتر آیا اور گھوڑے کی لگامیں ہاتھ میں پکڑ کر چلنے لگا۔ پھر ایک مکان کے سامنے وہ رک گیا۔ اس نے ذہن پر زور دیا۔ اس کی یاد داشت جاگی۔ خوشی اس کے چہرے پر ظاہر ہوئی اور پھر وہ زیر لب بڑبڑانے لگا: "یہی میرا گھر ہے۔ یہی میرا گھر ہے۔"دروازہ کھلا ہوا تھا۔ شوق سے وہ بلا اجازت ہی اندر داخل ہوگیا۔بالا خانے پر موجود گھر کے مالک نے نیچے صحن میں گھوڑے کی آہٹ سنی تو اس نے کھڑکی سے نیچے دیکھا۔ وہاں ایک مسلح اجنبی کھڑا تھا۔ وہ غضب ناک ہو کر نیچے اتر آیا۔ وہ تیس سال کی عمر کا تنومند جوان دکھائی دیتا تھا۔ آتے ہی اجنبی کو پکڑا اور سخت لہجے میں کہا: "اے دشمن خدا، رات کی تاریکی میں تو گھر کے اندر کیوں آیا؟"اجنبی گھبرا گیا، وہ صرف اتنا ہی کہہ پا رہا تھا: "دیکھو! میں اسے اپنا گھر سمجھ کر اندر آگیا اور سچ مچ یہ میرا ہی گھر ہے۔"لیکن گھر کا مالک گرج رہا تھا: "میں تجھے دیکھو لوں گا۔"دونوں کے باہم الجھنے سے شور زیادہ بلند ہوا تو چند پڑوسی بھی آگئے۔ انھیں دیکھ کر اجنبی بجائے گھبرانے کے زور زور سے کہنے لگا:"لوگو! کیا یہ میرا گھر کسی دوسرے کے قبضے میں چلا گیا ہے؟ کیا میری بیوی فوت ہوگئی ہے؟ تم میں سے کوئی بھی مجھے نہیں پہچانتا؟"پڑوسیوں کے ہجوم میں سے دو بزرگوں نے آگے بڑھ کر اسے پہچاننے کی کوشش کی تو اس نے کہا: "کیا تم بھول گئے کہ میں فروخ ہوں؟ کیا پڑوسیوں میں کوئی بھی فروخ کو پہچاننے والا اب مدینہ میں نہیں رہا جو تیس برس پہلے اسلامی لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے گیا تھا۔۔۔۔؟"یہ بات سنتے ہی ہر کوئی اپنی جگہ پر دم بخود رہ گیا۔ مجمع پر ایک گہرا سکوت طاری ہوگیا جیسے ہجوم میں موجود ہر شخص یادداشت کے دھندلے مناظر میں کچھ تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔


        رحلت نبوی کے بعد چالیس برس گزر چکے تھے۔ اللہ کے حکم میں رکاوٹ بننے والے حکمرانوں کا عام لوگوں کے دلوں پر خوف اتارنے کے لیے اسلامی فوجیں آگے ہی آگے بڑھ رہی تھیں۔ انہی لشکروں میں سے ایک لشکر سجستان کو فتح کرنے کے لیے روانہ ہوا، جس کی قیادت ایک بزرگ صحابی ربیع بن زیاد حارثی رضی اللہ عنہ کر رہے تھے۔ ان کے ہمراہ فروخ نامی ان کا غلام بھی تھا۔سجستان پر فتح کا پرچم لہرانے کے بعد ماورائے النہر کے علاقے پر ان کی نگاہیں تھیں لیکن دریائے سیحوں کی خوں خوار موجیں ان کی راہ میں حائل تھیں۔ انھوں نے ازسرنو فوج ترتیب دی اور پھر اللہ کا نام لے کر موجوں کے سینے کو چیرتے ہوئے دریا عبور کرکے دشمن کے روبرو ہوگئے۔ جب میدان کارزار گرم ہوا تو ربیع بن زیاد حارثی کی جاں باز سپاہ نے شجاعت و بہادری کے ایسے جوہر دکھائے کہ دشمن کے پاؤں اکھڑ گئے۔ ان کے غلام فروخ نے بھی جنگی مہارت کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ سپہ سالار کی نگاہ میں اس کی عظمت دوبالا ہوگئی۔ مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور دریا عبور کرنے کے بعد چین کی جانب اسلامی فوجوں کے لیے راستہ کھل گیا۔سپہ سالار نے اپنے غلام فروخ کی بہادری سے متاثر ہو کر اسے آزاد کردیا اور اپنے حصے کے تمام اموال غنیمت بطور انعام دے کر اس کی عزت افزائی کی۔ اس کے دو سال بعد ہی ربیع حارثی اپنے رب سے جا ملے۔ جانباز مجاہد فروخ اموال غنیمت کا ڈھیر لیے مدینہ پہنچا تو اس وقت وہ زندگی کی تیس بہاریں دیکھ چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ اب ایک گھر بنا لینا چاہیے۔ چنانچہ گھر خرید کر ایک خاتون سے شادی کر لی۔ مگر مجاہدانہ زندگی فروخ کی عادت بن چکی تھی۔ گھر میں بے کار پڑا رہنا اسے راس نہ آیا۔ اس دوران خراسان کے محاذ پر اسلامی لشکر کو کمک کی ضرورت پڑی تو حکومت وقت نے جہاد میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ فروخ نے جھٹ فیصلہ کیا۔ ان دنوں مجاہدوں کے اہل و عیال کی ذمہ داری حکومت پر ہوتی تھی اور پورا لشکر صرف اور صرف حکومت ہی کی سرکردگی میں تیار ہوتا تھا۔ محض اپنی مرضی سے "پرائیویٹ جہاد" کا کوئی تصور نہ تھا۔ مگر پھر بھی بیوی بچوں اور گھر بار کو چھوڑنا بڑے دل گردے کا کام ہوتا تھا۔ چناںچہ فروخ نے اپنی نئی نویلی دلہن کو تسلی دی اور اسے ایک تھیلی دیتے ہوئے کہا: "دیکھو! اس میں تیس ہزار دینار ہیں۔ یہ حکومت نے مجھے خرچ کے لیے دیے ہیں۔ ان کو کسی نفع بخش تجارت میں لگا دینا۔ اسی سے اپنے اخراجات بھی پورے کرنا اور بچے کی پرورش اور تربیت کا انتظام بھی کرنا۔ حتی کہ میں جہاد سے واپس آجاؤں یا پھر اللہ میری تمنائے شہادت پوری کر دے۔"




     جہاد پر روانگی کے چھ ماہ بعد فروخ کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا۔ بچہ اتنا خوب صورت تھا کہ اس کو دیکھ کر ماں شوہر کی جدائی کا سارا غم بھول گئی۔ ماں نے بچے کا نام ربیعہ رکھا اور اسے لائق اساتذہ کی نگرانی میں دے دیا۔ بہت تھوڑے ہی دنوں میں بچے نے مکمل قرآن حفظ کر لیا اور احادیث کا بھی خاصا ذخیرہ یاد کر لیا۔ ماں جب بھی بچے کی علمی قابلیت میں ترقی دیکھتی، اس کے اساتذہ کے انعام و اکرام میں اضافہ کر دیتی۔ وہ چاہتی تھی کہ بچہ ایسا تعلیم یافتہ اور با اخلاق ہو جائے کہ باپ اگر دیکھے تو اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں۔ لیکن ایک مدت گزر گئی اور فروخ کی کوئی صحیح خبر اس کو نہ ملی۔اس کے بیٹے نے خدمت علم ہی کو اپنا مقصد زندگی بنا لیا۔ چنانچہ وہ مسجد نبوی کی علمی مجالس میں شریک ہونے لگا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم میں اس وقت سب سے معزز و محترم شخصیت حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک کی تھی جو رسولۖ اللہ کے خادم خاص رہے تھے۔ صحابہ کے بعد تابعین میں سے وہ سعید بن مسیب جیسے علماء کے درس سے بطور خاص منسلک ہوگیا۔ تعلیم میں اس کی بے انتہا محنت سے اس کی شہرت عام ہوگئی۔ اب شاگردوں کی ایک بھیڑ اس کے گرد اکٹھی ہوگئی تھی۔اچانک بالا خانے کی کھڑکی سے ایک نسوانی آواز بلند ہوئی۔"انھیں چھوڑ دو بیٹا! انھیں چھوڑ دو۔"یہ گھر کے مالک کی ماں کی آواز تھی جو شور سن کر نیند سے بیدار ہو چکی تھیں۔ ماں کی آواز سن کر بیٹا نرم پڑ گیا۔ اتنے میں اس کی ماں نیچے اتر آئی اور کہا:"بیٹے! یہ تمھارے والد محترم ہیں اور اے ابو عبدالرحمان، یہ تمھارا بیٹا ربیعہ ہے۔" یہ سنتے ہی دونوں گلے مل گئے۔ ربیعہ نے باپ کے ہاتھ اور پیشانی چومی اور باپ کی محبت بیٹے پر نچھاور ہونے لگی۔

      فروخ تیس سال کے بعد آج اپنے گھر آیا تھا۔ وہ اپنی مجاہدانہ سرگزشت سنانے کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی کے حالات بھی پوچھتا رہا اور پھر مستقبل کا منصوبہ سوچنے لگا۔ربیعہ کی ماں، دیکھو میرے پاس اس وقت چالیس ہزار دینار ہیں اور جو تیس ہزار دینار میں تمھیں دے گیا تھا، ان میں سے جو کچھ بچت ہے، اسے ان میں شامل کر لو تو اس سے ہم کچھ قابل کاشت رقبہ اور باغ خرید لیں گے تاکہ گزر بسر کا سہارا بن جائے۔بیوی نے اس بات کو ٹال دیا۔ خوشی کے اس موقع پر اسے یہی فکر کھائے جا رہی تھی کہ شوہر نے جو تیس ہزار دینار اس کے حوالے کیے تھے، وہ سب بچے کی تعلیم و تربیت پر خرچ ہوگئے۔ اب اگر شوہر کو یہ بات بتائی گئی تو کیا وہ یقین کر لے گا کہ اتنی بڑی رقم بچے کی تعلیم و تربیت ہی پر خرچ ہوگئی۔ کیا وہ یہ بات مان لے گا کہ اس کا بیٹا بہت زیادہ فراخ دل ہے۔ وہ ایک درہم بھی بچا کر نہیں رکھتا۔ مدینہ کے لوگ جانتے ہیں کہ وہ اپنے دوست احباب اور مستحق لوگوں پر کتنا زیادہ خرچ کرتا ہے۔ ربیعہ کی ماں انھی خیالات میں پیچ و تاب کھا رہی تھی کہ اس کے شوہر نے دوبارہ کہا:"جو دینار بچے ہوئے ہیں، وہ لاؤ۔ پھر دیکھیں گے کہ کل ملا کر کتنی رقم بنتی ہے۔""آپ فکر مند نہ ہوں۔" بیوی نے اسے ٹالتے ہوئے کہا۔ "میں نے وہ تمام دینار وہیں رکھے ہیں جہاں رکھنے چاہیے۔ جلد ہی ان شاء اللہ وہ آپ کے سامنے آجائیں گے۔ آپ تھکے ہوئے ہیں، اب آرام کریں۔"تھکے ماندے فروخ کو ایسی نیند آئی کہ صبح کو خبر لی۔

      بیدار ہونے پر وضو کیا اور دروازے سے نکلتے ہوئے اپنی بیوی سے پوچھا: "ربیعہ کہاں ہے؟""وہ اذان سنتے ہی مسجد پہنچ جاتا ہے۔" بیوی نے کہا۔ "آپ کو کچھ دیر ہوگئی ہے اب شاید ہی جماعت آپ کو مل سکے۔"فروخ مسجد پہنچا تو جماعت ہو چکی تھی۔ اس نے تنہا نماز ادا کی۔ فارغ ہو کر جب مسجد سے لوٹنے لگا تو دیکھا کہ پوری مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی ہے۔ طالبان علم کاایسا با وقار اجتماع اس کی آنکھوں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ دور بیٹھے ایک شیخ کے گرد لوگ حلقہ بنا کر با ادب بیٹھے ہوئے تھے۔ مجمع اتنا تھا کہ مسجد میں کوئی جگہ خالی نہ تھی۔ فروخ نے مجمع پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ حلقہ درس میں عمر رسیدہ علماء بھی شامل ہیں اور نوجوان طلبہ بھی۔ سب کی نگاہیں شیخ پر ہیں جو لفظ بھی ان کی زبان سے نکلتا ہے، موتی کی طرح اس کو چن لیتے ہیں اور لکھ کر محفوظ کر لیتے ہیں۔ شیخ جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں، مجمع میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھڑے کچھ لوگ ان کی بات کے لفظ لفظ کو بلند آواز سے دہراتے ہیں تاکہ ہر شخص ان کی بات کو پورے طور پر صحیح صحیح لکھ سکے۔فروخ مجمع کے کنارے پر تھا۔ اس نے بڑی کوشش کی لیکن فاصلے کی وجہ سے وہ شیخ کو پہچان نہ سکا۔ وہ ان کی لیاقت و قابلیت سے حددرجہ متاثر ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد درس ختم ہوگیا۔ شیخ کھڑے ہوئے تو سارے لوگ ان کے پیچھے پیچھے مسجد کے دروازے تک آئے۔ شیخ کا اتنا ادب و احترام دیکھا تو فروخ سے نہ رہا گیا۔ اس نے ایک آدمی سے پوچھا: "مجھے بتایئے کہ یہ شیخ کون ہیں؟""اس آدمی نے فروخ کو اوپر سے لے کر نیچے تک حیرانی سے دیکھا اور کہا: "آپ ان کو نہیں جانتے، بڑی حیرت کی بات ہے! کیا آپ مدینہ کے باشندے نہیں ہیں؟""بھائی میں مدینہ ہی کا باشندہ ہوں۔" فروخ نے کہا۔"بھلا مدینہ میں کوئی ایسا آدمی بھی ہو سکتا ہے جو شیخ کو نہ جانتا ہو؟" "معاف کیجئے، میں واقعی نہیں جانتا۔""آپ بیٹھئے! میں بتاتا ہوں۔" اس آدمی نے فروخ کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "دیکھئے، یہ شیخ "تابعی" ہیں۔ عالم اسلام کی شان و شوکت کے امین، فقہائے مدینہ کی آبرو، مدینہ کے محدث اور امام ہیں، گو عمر میں ابھی نوجوان ہیں۔""ما شاء اللہ!" فروخ نے بے ساختہ کہا۔"ان کی مجلس میں مالک بن انس، ابو حنیفہ النعان، یحیی بن سعید انصاری، سفیان ثوری، عبدالرحمان اوزاعی، لیث بن سعد جیسے علماء و فقہا بھی شامل ہوتے ہیں۔اہل مدینہ میں ان سے بڑھ کرکوئی سخی، خوش اخلاق اور با کردار نہیں۔"

   "لیکن ان کا نام آپ نے نہیں بتایا۔" فروخ نے بے تابی سے پوچھا۔"ان کا نام ربیعہ الرائے ہے۔""ربیعہ الرائے؟" فروخ نے دوبارہ پوچھا۔"ہاں، ربیعہ ہی ان کا نام ہے۔ لیکن مدینہ کے عالم ان کو "ربیعہ الرائے" ہی کہتے ہیں کیونکہ علماء کسی دینی مسئلے کو سلجھا نہ پا رہے ہوں تو انھی کے پاس جاتے ہیں اور مطمئن ہو کر واپس آتے ہیں!""آپ نے ان کے والد کا نام نہیں بتایا۔" فروخ نے بے تابی سے کہا۔"ربیعہ بن فروخ۔ شیخ جب پیدا ہوئے تو ان کے والد جہاد میں گئے ہوئے تھے۔ ان کی ماں نے ان کی تعلیم و تربیت کا فرض انجام دیا۔ اہل مدینہ ایسی ماں پر فخر کرتے ہیں۔ میں نے نماز سے کچھ پہلے سنا ہے کہ ان کے والد "فروخ" تیس برسوں کے بعد رات ہی گھر واپس آ گئے ہیں۔"فروخ کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ وہ مزید کچھ پوچھے بغیر گھر چل دیے۔ بیوی نے شوہر کو نم آلود پلکوں کے ساتھ گھر میں داخل ہوتے دیکھا تو پوچھا: "کیا ہوا آپ کو میرے سرتاج! خیریت تو ہے؟""واللہ! میں نے اپنے بیٹے کا جو مرتبہ و مقام دیکھا، وہ آج تک کسی کا نہیں دیکھا۔"بیوی نے موقع غنیمت جان کر فوراً کہا: "آپ بتایئے، دونوں میں سے آپ کو کون زیادہ عزیز ہے؟ بیٹے کا یہ مقام و مرتبہ یا تیس ہزار دینار؟""اللہ کی قسم اس علم و کردارکے آگے تو ساری دنیا ہیچ ہے۔" فروخ نے کہا۔"یہ تیس ہزار دینار میں نے اسی علم و کردار کی بلندی تک بیٹے کو پہچانے کے لیے خرچ کر دیے۔ بتایئے اللہ کے ساتھ کی ہوئی اس تجارت پرآپ خوش ہیں یا نہیں؟""اللہ تمھیں جزائے خیر سے نوازے۔ تم نے مجھے وہ خوشی دی جس پر ہر خوشی قربان۔ ایسی تجارت میں سرمایہ کھپایا جس سے نفع بخش تجارت کوئی نہیں۔" فروخ نے جذبات سے رندھی آواز میں کہا۔