Saturday, September 06, 2014

خوشی کا اُصول


 خوشی کا اُصول


     اس پوسٹ سے قبل میں ایک بلاگ پوسٹ لکھ چُکی ہوں جس کا موضوع خوشی اور ٹایئٹل "خوشی کا راز " تھا۔ آج جو پیشِ خدمت ہے اسکا نام ہے" خوشی کا اُصول" اب آپ سوچیں گے کہ خوشی کے اُصول اور خوشی کے راز میں کیا فرق ہوگیا؟عقلمند ویسے ایسا نہیں سوچیں گے کیونکہ راز اور اُصول میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ خوشی کے ناکام راز آپ کے سامنے پہلے ہی فاش ہوچکے ہیں اب آپ کو خوشی کے لاگو اْصولوں کا سامنا کروانے کی سعی کرتے ہیں.
  خوشی کا کیا اُصول ہوتا ہے؟

    پہلے دادی اور پھر اپنے پاپا سے کہانیاں سُننے کا شوق بچپن میں میرے سر پر سوار تھا کہانیاں جو لوک داستانوں کی شکل میں ہوتی ہیں یا بادشاہوں کی کہانیاں اپنے اندر بہت گہرے راز سموئے ہوئے ہیں۔ بچپن میں دہرائی جانے والی ان کہانیوں میں ایک ایسے قصے کا بھی ذکر تھا جس کے اندر خوشی کا اُصول بیان ہوا ہے یہ ایک جابر اُصول تھا مگر کسی نہ کسی صورت میں اُصول سارے ہی جابر ہوتے ہیں۔ کہانی میں ایک ایسی ریاست کا ذکر ہے جس کے بادشاہ کا ایک ہی اُصول ہے کہ رعایا کو جیسی بھی حالت میں رکھا جائے مگر بادشاہ اُن سے روز رات کو ایک سوال ضرور پوچھے گا کہ "خوش ہو؟" اور سب نے ہاں میں ہی جواب دینا ہے کوئی بھی "نہ" میں جواب نہیں دے سکتا۔ نفی میں جواب دینے والے کو سخت سے سخت سزا کا سامنا کرنا پڑے گا ، اب بادشاہ کی ریاست میں رعایا کو دن رات کام کروایا جاتا ہے پورے دن کی مزدوری کے بعد کھانے کو ایک سوکھی روٹی اور دال دی جاتی اور پھر رات کو جب بادشاہ سلامت پوچھتے کہ "خوش ہو؟" تو سب یہی جواب دیتے کہ خوش ہیں اس ایک اُصول کی کوئی خلاف ورزی نہیں کرسکتا تھا پھر کچھ یوں ہوتا ہے کہ ایک انتہائی چالاک لڑکا بادشاہ سے بدلا لیتا ہے اور اس کا جینا محال کردیتا ہے اور ہر بار سوال پوچھتا ہے کہ "بادشاہ سلامت خوش ہیں؟" کیونکہ اُصول بادشاہ پر بھی لاگو ہوتا تھا، ریاست جیسی بھی تھی استثنیٰ سے عاری نہیں تھی تو بیچارے بادشاہ کو اپنا سب کچھ لُٹا کر بھی جواب دینا پڑتا کہ ہاں خوش ہوں، یہ پنجاب کی ایک مشہور کہانی یا قصہ ہے جو دادیاں نانیاں سُناتی ہیں میری دادی نے ہی میرے پاپا کو سُنائی پھر وہ آگے پھیلائی گئی مگر اس کہانی میں کیا سبق چُھپا ہے؟؟ تو وہ ہے خوشی کا اُصول ۔ کیا ایسا خوشی کا اُصول ہوتا ہے؟ بس دیکھ لیں۔

        ہمارے گھر بھی ایک ریاست ہیں جہاں سارے گھر کی مالکن اور بادشاہ "ماں " ہوتی ہے اور ہماری عموماً سب مایئں اِسی اُصول کو اپنے لاشعور میں سمو کر اپنی اس ریاست کے امور سرانجام دے رہی ہیں ہم سب کے گھروں کا صرف ایک اُصول ہے  بادشاہ ماں ہے جس نے بغیر الفاظ کے یہ سوال پوچھتے  رہنا ہے کہ "خوش ہو؟" اور رعایا یعنی بچوں نے یہی جواب دینا ہے کہ "ہاں خوش ہیں" نہیں کہنے کا یہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا "نہیں" کہنے کی صورت میں کیا ہوتا ہے؟ مجھے نہیں معلوم سزا کس حد کی ہوتی ہوگی، کہاں تک ہوتی ہوگی یا ہوتی بھی ہو کہ یا نہیں مگر یہ روایت ہی نہیں ہے کہ انکار کیا جائے "نہیں" کا کوئی جواز نہیں ہے،ماں کیسی بھی پڑھی لکھی ہو یا ان پڑھ ، مڈل کلاس ہو یا اپر مڈل کلاس سب کی ریاست کا ایک ہی اُصول ہے "خوش ہو" "ہاں جی خوش ہیں " جو ملے خوش ہو ، نہیں ملا خوش ہو ، ماں کبھی "نہیں خوش ہوں" نہیں سُنتی اور کبھی یہ سوال پوچھتی بھی نہیں ہے کہ خوش ہو یا نہیں مگر بہانوں بہانوں میں اس کا جواب مانگتی رہتی ہے ، کوئی بھی گلہ شکوہ سُننے سے انکاری ماں ہمیشہ بچوں کو خوش ہی ماننا چاہتی ہے ، یہ خدانخواستہ کوئی برائی نہیں ہے جو یہاں بیان کی جارہی ہے نہ ہی اس کا تعلق ماں جیسی عظیم ہستی کے احسانات و محبت سے انکار ہے یہ محض رویوں کی بات ہے اور اس بات کے ایمان کی کہ میرے بچے خوش ہیں ، اب چاہے وہ خوش نہیں ہیں مگر پھر بھی وہ اس بات کا ایمان کبھی نہیں ٹوٹنے دیتیں کہ میرا بچہ خوش ہے ۔اسکا تعلق صنفی تفریق سے بھی نہیں ہے بیٹا ہو یا بیٹی ماں اِس اُصول کا استعمال دونوں پر ہی برابری سے کرتی ہے اور کبھی اس اُصول میں تفریق نہیں برتتی ، میں نے ماؤں کو اپنے بچوں کے لئے مانگتے دیکھا ، کبھی اُن کی چھوٹی سے چھوٹی خواہش کے لئے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوئے دیکھا،کبھی اپنے بچے کے علاج کے لئے زاروقطار  روتے ہوئے دیکھا ہے ، دوسروں سے اپنے بچوں کی خاطر لڑتے ہوئے بھی دیکھا ہے مگر جب بات بچے اور ماں کے درمیان کے تعلق پر آتی ہے ماں فوراً وہ بادشاہ بن جاتی ہے جسکو اپنے بچے کی "ہاں" ہی سُننی ہے ، میں نے پچھلے دنوں کچھ لوگوں کو بہت عجیب گفتگو کرتے سُنا وہ کہہ رہے تھے کہ "ماں اور خدا کے سوا کوئی انسان کے شکوے نہیں سُنتا" خدا سے شکوے کرنے کو لوگ ناشُکری قرار دیتے ہیں اور ایسی بھی  "ماں" ہے بھئی جو شکوہ سُن لیتی ہے؟ ہماری تو نہیں سُنتی یہ مزاق نہیں ہے ہماری ماؤں کا یہ ایمان ہے کہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ تم خوش نہ ہو ، شائد یہ اُصول بھی ماں نے خدا سے ہی سیکھا ہے خدا بھی بندے کو کبھی گراتا ہے کبھی اُٹھاتا ہے کبھی نواز دیتا ہے کبھی چھین لیتا ہے مگر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں خوش نہیں ہوں ، خدا کا حکم ہے کہ ہر حال میں خوش رہنا ہے یہی خوشی کا اُصول ہوتا ہے یہی ماں کا اُصول ہوتا ہے ہماری ماؤں کے لئے ہم دنیا کے خوش و خرم انسان ہیں کیونکہ اُنہوں نے جب بھی پوچھنا ہے تم خوش ہو تو "ہاں خوش ہیں" ہی جواب دینا ہے ، یہ اُصول بھی ماں بادشاہ کا اپنا بنایا ہوا ہے اور وہ لوگ جن کی ماں "نہیں خوش ہوں " سُن لیتے ہیں وہ بھی خوش قسمت انسان ہیں یہ بھی ماں کی محبت کا ایک طور ہوتا ہوگااُس کی سہہ جانے کی ایک صلاحیت ہوتی ہوگی  مگر شاید وہ اُصول سے آزاد ہوں گے خوشی کے اُصول سے آزاد ۔یہ خوشی کا اُصول جو یہاں لاگو ہے یہ ماں نے آپکو زندگی کی شاید ایک پریکٹیس کروانی ہوتی ہے تسلیم و رضا سیکھانی ہوتی ہے کہ خدا کسی بھی حال میں رکھے جواب "خوش ہوں " ہی دینا ہے۔

No comments:

Post a Comment